حکومت اور مسلم لیگ (ن) میں معاشی اعداد و شمار کی جنگ

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کی معاشی ترقی کی شرح کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے۔

3 جون کا دن اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی معاشی ٹیموں کا ٹی 20 میچ رہا۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بھرپور اننگز کھیلتی نظر آئیں۔

شہباز شریف نے معاشی حکمت عملی کے حصے بکھیر دیئے

مسلم لیگ (ن) کے  صدر شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کی معاشی ترقی کی شرح کو آڑھے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 3 سال میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ کتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ ان تین سالوں میں عام آدمی کا زندگی کے ساتھ تعلق قائم رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ بجٹ پر پہلے ہی سوالات جنم لے چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے دیئے جانے والے معاشی اعدادو شمار پر بھی سوالات ہیں۔ اعداد و شمار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے حکومت کا میڈیا کے لیے لایا جانے والا مجوزہ میڈیا آرڈیننس بھی مسترد کردیا ہے۔ ان تین سالوں میں پہلے ہی میڈیا کو بہت دبایا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل کاروباری فائدے کے سوال پر بوکھلاہٹ کا شکار

مفتاح اسماعیل کی دھواں دھار تقریر

مسلم لیگ (ن) کے بجٹ سیمینار سے خطاب میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معیشت سے کھلواڑ کیا ہے۔ تحریک انصاف نے ملک کا قرضہ 15 ہزار ارب روپے بڑھایا ہے۔ عمران خان لنگر خانے کھولیں تو اس کے لیے چندے بھی سیلانی ویلفیئر سے لیتے ہیں۔ خان صاحب نے حکومتی اور سرکاری اداروں کے قرضے 45 ہزار ارب تک پہنچا دیئے ہیں۔ خان صاحب کے دور میں مالیاتی خسارہ سال 2019 میں 9 فیصد سے زیادہ تھا جو 2020 میں 8 فیصد سے زیادہ ہے۔ خان صاحب کے دور میں مالیاتی خسارہ سال 2019 میں 3 ہزار 829 ارب سے زیادہ تھا جو سال 2020 میں 3 ہزار 892 ارب سے زیادہ ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شوکت ترین نے بھی تسلیم کیا کہ شرح منافع بڑھنے سے قرضہ بڑھا ہے۔ انہوں نے کرنسی کی قدر کم کر کے 3 سال میں صرف 1 فیصد برآمدات بڑھائیں۔ حج عمرہ نہیں ہورہا اور پاکستانی شہری سعودی عرب نہیں جارہے۔ سعودی عرب میں بسنے والے پہلے حج اور عمرہ کرنے والوں کے ہاتھ پیسے بھیج دیا کرتے تھے۔ یہ سہولت بند ہوئی تو لوگ بینکوں سے پیسے بھیج رہے ہیں۔ اسی طرح کی بڑھتی ہوئی ترسیلات زر بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں نظر آتی ہیں۔

پنجاب معاشی ترقی میں سندھ سے آگے نکلا، عائشہ غوث پاشا

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پنجاب کی سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پی ٹی آئی بجٹ بنانے میں پریشانی کا شکار ہے۔ ہمیں بتایا کہ خسارہ 5 اعشاریہ 6 فیصد ہوگا اور آئی ایم ایف کو 6 فیصد کا مالیاتی خسارہ بتا رہے ہیں۔ ہمارے دور میں پنجاب میں تعلیم اور صحت پر بجٹ بڑھایا گیا۔ جبکہ پی ٹی آئی نے پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 23 فیصد کمی کردی۔

عائشہ غوث پاشا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے دور میں ترقیاتی بجٹ 5 سال سالانہ 5 فیصد بڑھایا اور یوں  ہمارے 5 سال میں ترقیاتی بجٹ 25 فیصد بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمارے پروگرام کی نقل بھی نہ کرسکی۔ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی  ہے۔ پاکستان شماریات بیورو کے مطابق ہمارے دور میں پنجاب کا ایک ضلع بھی کم ترقی یافتہ نہیں تھا۔ ہمیشہ کراچی کی وجہ سے سندھ معاشی ترقی میں آگے رہا۔ ہمارے 5 سال پنجاب نے پہلی بار سندھ کو ترقی میں پیچھے چھوڑا۔

اب کپتان بدلنا ہوگا، محمد زبیر

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی کے 3 سال میں 2 وزیر خزانہ تو پیپلزپارٹی کے تھے۔ وہی پیپلز پارٹی جس کی معیشت کے خلاف خان صاحب کنٹینر پر چڑھ کر تنقید کرتے تھے۔ بار بار کھلاڑی بدلنا بہت ہوچکا، اب کپتان بدلنا ہوگا۔

لنگر خانے کی نہیں کارخانے کی ضرورت، خرم دستگیر

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر تجارت خرم دستگیر بجٹ سیمینار میں اسٹیج پر آئے تو ایک کلو آٹا، ایک کلو دال، ایک کلو گھی اور ایک کلو چینی تقریر سے پہلے ڈائس پر سجا دی۔ انہوں نے کہا کہ ان چاروں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گزشتہ 3 سال میں دگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ غریب کے لیے ادویات 500 فیصد مہنگی کی گئیں۔ غریبوں نے علاج کرانا بند اور ادویات کا استعمال نصف کردیا ہے۔ غریب کے لیے بجلی 200 فیصد مہنگی کی گئی۔ پی ٹی آئی نے غریب کے لیے بجلی کا ریٹ 6 روپے تک پہنچایا ہے۔

حکومت نے سی پیک کے رفتار کو ٹھپ کردیا، احسن اقبال

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی و داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہی پوری معیشت نہیں، جب 18 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے بنیں گے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھے گا۔ یہ منصوبے مکمل ہونے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم بھی ہونا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے ملک میں جو سڑکیں اور موٹروے بنائے یہ وہاں سروس ایریاز تک نہ بناسکے اور انہیں فعال نہیں کرسکے۔  سی پیک کی رفتار ٹھپ کردی اور سرمایہ کاری کا ماحول خراب کردیا۔

عمران خان کو معیشت کی الف بے نہیں آتی، شاہد خاقان عباسی

مسلم لیگ (ن) کے بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گردشی قرضہ خالصتاً نقصان ہے جسے کسی نہ کسی دن ادا کرنا پڑے گا۔ ہمارے دور میں گردشی قرض 1150 ارب تھا اور اب یہ 2150 ارب سے بڑھ چکا ہے۔ اگر گردشی قرضہ بڑھتا رہا تو پھر یہ 3 ہزار ارب پر پہنچ جائے گا۔ اس کا براہ راست اثر پاکستانی عوام پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویل کا ریٹ 5 روپے سے 12 روپے فی یونٹ پر پہنچ چکا ہے۔ سال 2018 میں 11.72 پیسے ریٹ تھا جو اب 19 روپے سے بڑھ چکا ہے۔ اس وقت حکومت کی آمدن 300 ارب سے زیادہ ہے مگر پھر بھی 600 ارب کی شرح سے گردشی قرض بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کی بجلی کی قیمت میں 62 فیصد ہوچکا ہے۔ سب سے بڑی وجہ حکومت کی نااہلی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر وزیر کہتا ہے کہ گردشی قرض پر کنٹرول کرلیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں یہ قرض بڑھ رہا ہے؟ اس کا جواب سیدھا ہے کہ جب الیکشن چوری ہوں گے تو پھر اس طرح گردشی قرض بڑھیں گے۔  ہمارے دور میں گیس کا ریٹ ڈومیسٹک 310 تک تھا جو 987 تک پہنچ گیا ہے۔ سی این جی 700 پر تھی جو اب 1021 پر پہنچ گئی ہے۔ وزیراعظم کو معیشت کی الف بے تک نہیں آتی۔ پاکستان کی جی ڈی پی شرح تین سال میں 19 ارب ڈالرز کم ہوگئی، یہ ملک کی حقیقت ہے۔ یہ نمبرز ہمارے نہیں بلکہ اس حکومت کے اپنے ہیں۔ 50 لاکھ لوگ بےروزگار ہوئے ہیں، اس میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جنہیں نیا روزگار نہیں مل رہا ہے یا جن کی تنخواہوں پر کٹ لگے۔ ملک کی 8 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے، اس کا جواب کون دے گا۔

وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کے جواب

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار اور وزیر توانائی حماد اظہر نے ورچوئل پریس کانفرنس کی۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے شرح سود 13.25 فیصد تک لے جا کر پاکستان سے زیادتی کی جس سے قرضوں کا بوجھ 1300 ارب روپے مزید بڑھ گیا۔ اس کی ذمہ دار مسلم لیگ (ن) ہے کیونکہ اس کا قرضہ اتارنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام لینا پڑا۔

وزیر خزانہ نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرض لے کر 2018 میں 5.8 فیصد کی گروتھ دکھائی گئی۔ اسحاق ڈار نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا جو موجودہ حکومت نے سنبھالا۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر شرح سود 13.25 فیصد تک لے کر گئے، یہ زیادتی تھی۔ شرح سود میں اضافے سے قرضوں کا بوجھ 1300 ارب روپے مزید بڑھ گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے روکنے سے 20 ارب ڈالرز کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا۔ گردشی قرضہ کم ہورہا ہے جسے مزید کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔ آئندہ بجٹ میں ٹیکس پر ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا۔ آئندہ دو سالوں میں ٹیکس محصولات 7 ہزار ارب تک لے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے کہ ٹیرف نہیں بڑھائیں گے بلکہ ٹیرف کا متبادل منصوبہ دیں گے۔

اس موقع پر وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی نئے ٹیکس لگانے کی تجویز ماننے سے انکار بھی کیا۔

جبکہ وزیر توانائی حماد اظہر نے اعتراف کیا کہ اس وقت ہمارے ملک میں مہنگائی ہے۔ اس سال 4 سے ساڑھے 4 فیصد پر گروتھ کریں گے۔ معیشت بہتر ہو رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال ساڑھے 4 فیصد تک گروتھ رہے گی۔ آئندہ 2 سال میں معاشی ترقی کی شرح کو 6 فیصد تک پہنچائیں گے۔

متعلقہ تحاریر