حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے بجٹ چیلنج بن گیا

عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط نہ ماننے پر پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کے اجراء میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے جمعے کے روز اپوزیشن کے شور شرابے اور احتجاج میں مالی سال 22-2021 کا 8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا لیکن یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ہی چیلنج بن گیا ہے۔

مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط نہ ماننے پر پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کے اجراء میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور حکومتی ٹیم کے درمیان ایم ای ایف پی (میمورینڈم آف اکنامک فنانشل پالیسیز) میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے لیے بجٹ میں 200 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس عائد کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر معاملات پر ڈیڈلاک ختم نہیں ہوسکا ہے۔ اس وجہ سے ملک کے چھٹے اقتصادی جائزے کی تکمیل میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض کی اگلی قسط کے اجراء میں تاخیر کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وفاق نے ترقیاتی بجٹ میں خیبرپختونخوا کا حصہ کم کردیا

آئی ایم ایف شرائط میں نرمی پر آمادہ نہیں ہے۔ ٹیکس روینیو بڑھانے کے حوالے سے آئی ایم ایف حکومتی ٹیم کے پیش کردہ متبادل پلان پر راضی نہیں ہے اور متبادل پلان میں روینیو میں اضافے کے لیے پیش کردہ جواز سے متفق نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے انتظامی اقدامات و انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 215 ارب روپے کے اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز سے بھی آئی ایم ایف متفق نہیں۔ آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ گزشتہ کئی برس سے ایڈمنسٹریٹو اقدامات کے ذریعے اضافی ریونیو جمع کرنے کا ہدف رکھا جاتا ہے لیکن کبھی بھی اس مد میں خاطر خواہ ریونیو حاصل نہیں ہوا۔

پاکستان پر عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ٹیکسز میں دی جانے والی غیرضروری چھوٹ ختم کرنے کا دباؤ ہے اور ٹیکسز میں ریلیف کے باعث رواں مالی سال کے دوران ریونیو میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس سیلب کی تعداد کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ملازمین کو ملنے والے میڈیکل الاؤنس سمیت ٹیکس کی چھوٹ والے الاؤنسز کو واپس لینے کا کہا جارہا ہے۔

بجٹ آئی ایم ایف

پاکستان نے 3 ماہ کے دوران متبادل پلان کے مطابق روینیو گروتھ دکھائی تو اس صورت معاملات طے پانے میں آسانی ہوگی ورنہ پہلی سہ ماہی کے بعد اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف نے ناانصافی کی ہے۔ اُس کا بجلی کے ٹیرف کو بڑھانے کا مطالبہ ناجائز ہے۔ معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا اور ٹیرف بڑھانے سے کرپشن بڑھ رہی ہے۔ بجلی کے ٹیرف پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف سے گردشی قرضہ کم کرنے کا کہا ہے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ آئی ایم ایف کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

ادھر گزشتہ روز بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہوکر حکومت کو مشکل وقت سے دوچار کریں گی۔

تاہم اس صورتحال میں حکومت کے لیے یہ بجٹ پاس کروانا ایک چینلج بن گیا ہے کیونکہ آئی ایم ایف کی ناراضگی کی صورت میں قرض کی اگلی قسط کا اجراء کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ جبکہ اپوزیشن کے لیے بھی بجٹ پاس ہونے سے رکوانے کا چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔

متعلقہ تحاریر