پانی کی لائن پھٹنے سے یونیورسٹی روڈ ایک مرتبہ پھر ڈوب گیا

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں 84 انچ قطر کی پائپ لائن پھٹنے سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہوگیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر 84 انچ قطر کی پانی کی پائپ لائن پھٹنے سے یونیورسٹی روڈ ایک مرتبہ پھر سے ڈوب گیا ہے۔ پانی کی لائن پھٹنے سے موسمیات سے ڈاؤ یونیورسٹی کی طرف جانے والی سڑک زیر آب آگئی ہے جس کے سبب ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے۔

پانی کی پائپ لائن پھٹنے سے جہاں ہزاروں گیلن پانی ضائع ہوا ہے وہیں لائن کا پانی سیوریج کے پانی کے ساتھ مل کر متعدد اپارٹمنٹس کے بیسمنٹس اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے۔ کراچی کے محکمہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ہدایت پر پانی کی لائن پھٹنے کے بعد ضلع وسطی اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے جبکہ مرمتی کام بھی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت پیپری پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تو اس وقت وال آپریٹر نے وال بند نہیں کیا تھا جو 84 انچ کی پائپ لائن کے پھٹنے کی بڑی وجہ بنا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے بجٹ چیلنج بن گیا

اس سے قبل بھی یونیورسٹی روڈ پر پانی کی 84 انچ قطر کی پائپ لائن پھٹ گئی تھی جس سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔

کراچی میں پانی کی پائپ لائنز پھٹنے کے واقعات

12 دسمبر 2015 کو بھی یونیورسٹی روڈ پر 84 انچ قطر کی پانی کی لائن پھٹ گئی تھی جس سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔ 72 گھنٹوں تک پانی ضائع ہونے سے سڑک تالاب کا نظارہ پیش کرتی رہی تھی۔

13 جنوری 2016 کو کراچی کے علاقے سفاری پارک کے نزدیک پانی کی پائپ لائن پھٹنے سے ہزاروں گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔

8 اپریل 2018 کو بھی کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر وفاقی اردو یونیورسٹی کے سامنے پانی کی پائپ لائن پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

رواں سال 27 فروری کو کراچی کے علاقے پاپوش نگر میں پینے کے پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب مشینری کی مدد سے کچرا اٹھایا جارہا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کی پائپ لائنز کے پھٹنے کے واقعات واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اہلکاروں اور ٹینکرز مافیا کی ملی بھگت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ پانی لائن پھٹنے کے فوری بعد علاقے کو پانی کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے جس کے بعد ٹینکرز مافیا مہنگے داموں پانی فروخت کرکے مال کماتا ہے اور اس کا حصہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اہلکاروں کو بھی پہنچتا ہے۔

متعلقہ تحاریر