میڈیا ہاؤسز کے ارب پتی مالکان کے ورکرز کوڑی کوڑی کو محتاج
کیپٹل ٹی وی نیٹ کی انتظامیہ نے ادارے میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی 11 مہینوں سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی ہے۔
پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کے ارب پتی مالکان کے ورکرز کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے کارکنان کو وقت پر تنخواہیں نہ دینا معمول بن گیا ہے۔ کیپٹل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی انتظامیہ نے ادارے میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنان کو تقریباً ایک برس سے تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں جبکہ یہی صورتحال بول چینل اور دیگر اداروں کی بھی ہے۔
ملک میں مہنگائی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ رواں مالی سال 2020-21 میں مئی کے مہینے تک افراط زر کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی جس کے سبب وفاقی حکومت نے مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے برعکس تمام میڈیا ہاؤسز بشمول کیپٹل ٹی وی نیٹ ورک کے ارب پتی مالکان نے اپنے کارکنان کی تنخواہوں میں نصف سے بھی زیادہ کمی کردی ہے جس کی وجہ سے کارکنان کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بلاول ہاؤس میں آگ پر وفاقی حکومت کے فائر ٹینڈر نے قابو پایا
میڈیا ہاؤسز کے مالکان مالی نقصانات اور اشتہارات کی مد میں واجبات نہ ملنے کا بہانہ بنا کر کم کی گئی تنخواہیں بھی بروقت ادا نہیں کررہے ہیں۔ حکومت نے نجی نیوز چینلز کو اشتہارات کے واجبات ادا کردیئے ہیں مگر بعض اداروں کے میڈیا کارکنان اب بھی واجبات سے محروم ہیں جس کے باعث باشعور اور سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے چولہے بجھ گئے ہیں اور بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔
سینیئر صحافی مرتضیٰ سولنگی (جو کیپٹل ٹی وی نیٹ ورک سے منسلک رہ چکے ہیں) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ ’کیپٹل ٹی وی کے ملازمین کی 11 ماہ کی تنخواہیں واجب الادا ہیں۔‘
Just talked to a reporter in Capital TV. He said the channel owes them salaries of 11 months. That is almost a year. Worst sweatshops.
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) June 9, 2021
نیوز 360 نے کیپٹل ٹی وی اسلام آباد سے منسلک ایک صحافی سے اس بارے میں دریافت کیا تو خبر میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ ’کیپٹل ٹی وی حالیہ مہینوں کی تنخواہیں تو ادا کر رہا ہے مگر 11 ماہ کی تنخواہیں واجبات الادا ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس بارے میں جب دبے الفاظ میں مطالبہ کیا جاتا ہے تو انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لیتی ہے اور جھوٹی طفل تسلیاں دے دی جاتی ہیں مگر واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی کی کوئی سبیل نہیں کی جاتی ہے۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کے معاملے پر کچھ پیشرفت ہوئی تھی تاہم کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کے کیس کی سماعت کے دوران سابق چیف جسٹس چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ جو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے وہ ٹی وی چینل بند کردیئے جائیں۔
کیپٹل ٹی وی نیٹ ورک کے وکیل فیصل چوہدری نے بتایا تھا کہ ’فروری اور مارچ 2018 کی تنخواہیں باقی ہیں۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کسی کے گھر کا چولہا نہ جلے؟ چینل کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ مئی تک تمام واجبات دے دیں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے، تنخواہیں نہیں دے سکے تو کیپٹل ٹی وی بند کردیں گے۔‘
الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ’میڈیا مالکان تنخواہیں مانگنے پر صحافیوں کو ملازمتوں سے فارغ کردیتے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کرانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں میڈیا مالکان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ واجبات ادا کر دیئے جائیں گے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے گی جس پر کچھ نجی نیوز چینلز نے عمل کیا تھا مگر کیپٹل ٹی وی نیٹ ورک اور بول نیوز سمیت کئی چینلز تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔‘
کیپٹل ٹی وی کے کیمرہ مین فیاض احمد گزشتہ برس انتقال کر گئے تھے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ وہ 10 ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے سبب ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
کیپٹل ٹی وی نیٹ ورک کے مالک وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق افسر باسط ریاض احمد شیخ ہیں۔ کیپٹل ٹی وی کے کیمرہ مین فیاض احمد کے انتقال پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے ادارے کی تالہ بندی اور احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاہم چینل کی انتظامیہ نے واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس پروفیشنلز کے صدر راحیل نواز سواتی نے نیو 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں میڈیا اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور ہزاروں صحافیوں کو بے روزگار کیا جا چکا ہے۔ صحافیوں کو شدید مالی مسائل کا سامنا ہے جس کے سبب وہ کرائے تک ادا نہیں کر پارہے ہیں اور ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ صحافی کو کرائے کی عدم ادائیگی پر گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔‘
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کا موقف ہے کہ پیمرا قانون کے مطابق انہیں ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ نجی ٹی وی چینلز کو ورکرز کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے پابند کریں۔
بول ٹی وی کی انتظامیہ جو بلند بانگ دعووں کے ساتھ میڈیا انڈسٹری میں آئی تھی اپنے اکثر وعدوں سے منحرف ہوچکی ہے۔ انتظامیہ نے اسلام آباد، کراچی، لاہور اور دیگر اسٹیشنز پر کام کرنے والے سیکڑوں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے یا ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ وہ خود چینل چھوڑ کر جارہے ہیں۔
اسلام آباد کے سینیئر صحافی اور پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی تین رکنی الیکشن کمیٹی کے رکن حامد حبیب نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بعض میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا استحصال کیا جارہا ہے اور انہیں بروقت تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ اس حوالے سے ریاستی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ قائمہ کمیٹیوں میں بھی صحافیوں کی تنخواہوں کا معاملہ اٹھایا گیا مگر اب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا ہے۔‘
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینیئر صحافی قربان بلوچ نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ صحافیوں کی تنخواہیں کم کردی گئیں، انہیں ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا اور واجبات اور تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔ چینل مالکان موقف اختیار کرتے ہیں کہ انہیں مالی خسارے کا سامنا ہے لیکن درحقیقت ان کے اور ان کے بچوں کے زندگی گزارنے کے طریقوں میں فرق نہیں آیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا معیار زندگی بہتر سے بہترین ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن جب صحافی اور میڈیا ورکر کو تنخواہ دینے کی بات کی جاتی ہے تو وہ مالی مسائل کا رونا روتے ہیں۔‘

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری اطلاعات اور سابق سیکریٹری خزانہ سینیئر صحافی انتظار حیدری نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی، سینیٹ اور دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت اشتہارات کی مد میں نجی ٹی وی چینلز کو اس وقت تک ادائیگی نہ کرے جب تک وہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو واجبات اور تنخواہیں ادا نہ کردیں۔‘

سینیئر صحافی انتظار حیدری نے کہا کہ ’حکومت نے صحافی اور میڈیا ورکرز کے نام مانگے تھے جنہیں واجبات اور تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ جس پر پاکستان رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) نے ملک بھر سے صحافی اور میڈیا ورکرز کے ناموں اور واجبات کی تفصیلات سے متعلق فہرست مرتب کر کے وزارت اطلاعات، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو فراہم کی تھی جس پر اب بھی پیشرفت کے منتظر ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور صحافیوں کی مشاورت سے ایک بل مرتب کر کے سینیٹ میں پیش کیا گیا مگر اپوزیشن کی جانب سے حمایت نہ کیے جانے پروہ بل مسترد ہوگیا۔‘









