نئے شناختی کارڈز پر 5، 5 موبائل سِمیں پہلے سے جاری

صارفین کی نادرا اور پی ٹی سی ایل کے دفاتر میں شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں زائد المعیاد یا نئے شناختی کارڈ پر موبائل سمز نکلوانے کا دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے۔ درجنوں صارفین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے دفاتر میں شکایات درج کروانے آتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

قصور کے نادرا دفاتر میں خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ نئے شناختی کارڈز والے صارفین کے نام پر 5، 5 موبائل فون سمز جاری کی جارہی ہیں۔ صارفین نئے شناختی کارڈ پر اپنے نام کی سم نکلوانے موبائل فرنچائز کے دفتر جاتے ہیں تو پہلے ہی سے ان کے نام پر 5 موبائل فون سمز نکل چکی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ

صارفین نے شکایت کی ہے کہ ان کے نام کی سب سے زیادہ تر موبائل سمز یوفون کمپنی کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں۔ شکایات کے اندراج کے لیے نادرا اور پی ٹی سی ایل کے دفاتر میں جاتے ہیں مگر آج تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

قصور پولیس نے متعدد بار ایسے ملزمان کے گروہ بھی پکڑے ہیں جو ربڑ فنگرز کے ذریعے سمز کے اجراء سے سادہ لوح افراد سے رابطہ کر کے نوسربازی اور فراڈ کر کے رقوم حاصل کرتے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) عرصہ دراز سے چھان بین میں مصروف ہے مگر تاحال خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔

موبائل سمز صارفین کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو ان کے نام سے جاری سمز کی وجہ سے کسی بھی وقت لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 نومبر 2015 کو پاکستان کی معروف موبائل کمپنی زونگ کی درخواست پر پانچ موبائل سمز کے مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے ایک شناختی کارڈ پر 5 موبائل فون سمز کے علاوہ 3 ڈیٹا سمز بھی جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل ایک شناختی کارڈ پر محض پانچ موبائل یا ڈیٹا سمز کی پابندی تھی۔

متعلقہ تحاریر