سوشل میڈیا پر صحافیوں کی لڑائیاں عام ہونے لگیں

ٹوئٹر پر اویس منگل والا اور عصمت اللہ نیازی کے درمیان لفظی جنگ میں غیر مناسب الفاظ استعمال کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر فنکاروں کے بعد اب صحافیوں کی لڑائیاں بھی عام ہونے لگی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی اویس منگل والا اور عصمت اللہ نیازی کے درمیان بحث میں نہایت غیر مناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا۔

پاکستان میں صحافیوں نے اپنے انداز گفتگو اور الفاظ کے چناؤ پر دھیان دینا چھوڑ دیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ سنیئر اور جونیئر صحافی ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹوئٹر پر اویس منگل والا اور عصمت اللہ نیازی کے درمیان بحث چھڑگئی۔

معاملہ اویس منگل والا کی ٹوئٹ سے شروع ہوا جس میں انہوں نے جی 7 ممالک کے سربراہان کی ایک تصویر شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ ان میں سے کسی نے ماسک کی پابندی نہیں کی ہے۔ ٹوئٹ پر تبصرے میں سنیئر صحافی عصمت اللہ نیازی نے اویس منگل والا کے لیے ‘ گدھے’ کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ یہ تمام افراد ویکسین لگوا چکے ہیں اور جہاں تمام افراد ویکسین شدہ ہوں وہاں ماسک کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی صحافی تشدد کا پرچار کرنے لگے

اویس منگل والا نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ کوٹ ٹوئٹ میں لکھا کہ ٹوئٹ کے آغاز میں آپ نے جو اپنے والد صاحب کا نام لکھا ہے اس کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ اس بات کے جواب میں عصمت اللہ نیازی نے بند الفاظ میں اویس منگل والا کو نوکری سے متعلق دھمکی دے دی۔

اویس منگل والا نے سنیئر صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپنے ٹوئٹ سے غیر مناسب لفظ ہٹا دیں تو وہ بھی معذرت کرلیں گے۔ جس پر عصمت اللہ نیازی ڈٹ گئے اور دوبارہ دھمکی دی۔

اویس منگل والا بھی خاموش نہ رہے اور ٹوئٹ میں سینئر صحافی کی ذہنی پسماندگی سے متعلق تبصرہ کیا۔ عصمت اللہ نیازی نے جواب میں ایک مرتبہ پھر جونیئر صحافی کی مالکان سے تربیت کرانے کی بات کی۔

اس لفظی جنگ سے دونوں صحافیوں کو کچھ حاصل تو نہیں ہوا البتہ دونوں نے عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحافتی اقدار کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔

متعلقہ تحاریر