حکومت کی ذمہ داری ختم پی بی اے کی شروع

وفاقی حکومت نے میڈیا ہاؤسز کے رکے ہوئے 70 کروڑ روپے کے واجبات ادا کردیے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات نے میڈیا کے اداروں کو 70 کروڑ روپے کی مکمل ادائیگی کردی ہے۔ حکومت نے اپنا کام پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے اب یہ پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا ہاؤسز کے کارکنان کے واجبات کی ادائیگی کو ممکن بنائیں۔

گزشتہ روز وفاقی وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزارت اطلاعات نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق میڈیا اداروں کو 70 کروڑ روپے کی ادائیگی مکمل کر لی ہے۔ یہ بقایا جات ایک طویل عرصے سے ادا نہیں کیے گئے تھے، ان ادائیگیوں سے میڈیا ورکرز کے مالی مسائل میں کمی آئی ہے اور اداروں کو تحفظ ملا ہے۔ اب بھی ادارے اگر ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیتے تو یہ زیادتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوجی قیادت خطے کی صورتحال پر سویلین قیادت کو اعتماد میں لے گی

میڈیا ہاؤسز مالکان کی نمائندہ تنظیم پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) ایک عرصے سے معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے حکومت سے اشتہارات کی مد میں رکے ہوئے واجبات کی ادائیگی کا مطالبے کررہی تھی۔

حکومت نے واجبات کی ادائیگی کرکے گیند اب میڈیا ہاؤسز کے کورٹ میں ڈال دی تاکہ وہ اپنے کارکنان کے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو ممکن بناسکیں۔

نیوز 360 کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متعدد بڑے میڈیا ہاؤسز اپنے کارکنان کو تنخواہوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کر رہے ہیں۔

نیوز 360 کے مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے آنے بعد سے بہت سارے میڈیا ہاؤسز نے اپنے سیکڑوں کارکنان کی تنخواہیں یا تو آدھی کردی یا پھر تنخواہ کا بڑا حصہ کم کردیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت سے میڈیا ہاؤسز جان بوجھ کر تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے خطیر رقم کی ادائیگی کرکے اپنا کام سرانجام دے دیا ہے۔ اب یہ پی بی اے پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کارکنان کی تنخواہیں بروقت ادا کریں اور تنخواہوں میں جو کٹوتی کی گئی تھی وہ بھی ختم کی جائے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی جو صحافتی تنظیمیں ہیں انہیں بھی پی بی اے کی کارکردگی پر نظر رکھنی ہو گی اور دباؤ ڈالنا ہوگا کہ کارکنان کے بقایاجات ادا کیے جائیں۔

متعلقہ تحاریر