سوشل میڈیا پر ملک دشمن بیانیہ یوں فروغ پاتا ہے

سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اپنے عمل سے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان کی توثیق کردی۔

پاکستان کے معروف سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے غیر ذمہ داری کی انتہا کردی۔ ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت پر تنقید میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ کسی کی کہی ہوئی بات کو کسی اور سے منسوب کردیا۔ پیر کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا تھا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا کو ملکی مفاد کے خلاف پروپیگنڈہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے گزشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جیو نیوز کی خبر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یورپی یونین نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ وہ عالمی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ سے وابستہ ادارے ایف اے ٹی ایف کے خلاف بیانات جاری نہ کریں۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف متضاد ہیں بلکہ پاکستان کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تھرپارکر کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

سوشل میڈیا صارفین نے خبر کا جائزہ لینے کے بعد سینئر صحافی کو آگاہ کیا کہ انہوں نے یورپی یونین  کے کسی رکن ملک کے سفیر کی تجویز کو یورپی یونین کے ترجمان سے جوڑ دیا ہے۔ اس بیان کا یورپی یونین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم، مرتضیٰ سولنگی صارفین کی بات ماننے پر تیار نہ ہوئے اور سفیر کے بیان کو ترجمان یورپی یونین کا بیان قرار دینے پر مُصر رہے۔

صحافی شیراز خان راجپوت نے مرتضیٰ سولنگی کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ جسے وہ یورپی یونین کے ترجمان کا بیان سمجھ رہے تھے وہ کسی یورپی ملک کے سفارت کار کا جیو نیوز سے کیا گیا تبصرہ تھا۔ شیراز خان نے لکھا کہ اگر مرتضیٰ سولنگی خود کو صحافی کہتے ہیں تو عمل بھی صحافیوں جیسا کریں۔

ایک اور صحافی خرم حسین نے ٹوئٹ میں بتایا کہ مرتضیٰ سولنگی نے اپنے ٹوئٹ میں جن صاحب کے بیان کا ذکر کیا ہے وہ یورپ میں مقیم سفارت  کار اور یورپی کمیشن کے باضابطہ ترجمان ہیں۔

متعلقہ تحاریر