صحافی اسد طور کے خلاف ایف آئی اے کا گھیرا تنگ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسد طور کی درخواست خارج کرتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

فری لانس صحافی اسد طور کے خلاف گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو اسد طور کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے ۔ اسد طور نے اپنی ساتھی صحافی شفاء یوسفزئی کے کردار کو اخلاق باختہ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن شفاء یوسفزئی کی جانب سے صحافی اسد طور کے خلاف دائر کیس کی سماعت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بجٹ میں ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینے پر تاجر پھٹ پڑے

رواں سال مارچ میں اسد طور نے اپنے یوٹیوب چینل پر شفاء یوسفزئی کے کردار پر کیچڑ اچھالا تھا جس پر انہیں اپنے ساتھیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب مارننگ شو کی میزبان شفاء یوسفزئی نے اسد طور کو سوشل میڈیا پر جواب دینے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے اسد طور کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ صحافی ایجنسی کو تفتیش سے روکنے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسد طور کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو صحافی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اسد طور کیس دو صحافیوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس میں ایف آئی اے کو ابتدائی انکوائری سے روک نہیں سکتے۔ تاہم چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ اسد طور کو شکایت کی کاپی کے ساتھ نوٹس بھجوائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے شفاء یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مجھے عدالتوں سے انصاف کی پوری امید تھی اور چیف جسٹس اطہر من اللہ نے باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

شفاء یوسفزئی نے مزید کہا کہ کسی مرد یا عورت کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی کی کردار کشی کرئے، ذاتی حملے کرئے اور پھر حیلے بہانے کرکے بھاگ جائے۔

شفاء یوسفزئی نے خواتین ہراسگی کیس کی پیروی کرنے والے ساتھی صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مختلف صحافیوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر مبارکباد دی ہے۔

متعلقہ تحاریر