کیا کراچی کا ضلع جنوبی نالوں پر قائم ہے؟

امدادی کارروائیوں کی وجہ سے مارکیٹ کو سیل کردیا گیا ہے۔

گارڈن برساتی نالے پر قائم کراچی کی قدیم اور مصروف ترین جوبلی مارکیٹ کی 10 دکانیں منہدم ہوگئیں۔ مارکیٹ کو سیل کردیا گیا۔ کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

پولیس کے مطابق جوبلی مارکیٹ برساتی نالے پر تعمیر کی گئی تھی جس کی وجہ سے دکانیں منہدم ہوئیں اور ان میں رکھا ہوا سامان گٹر کے پانی میں ڈوب گیا۔ امدادی کارروائیوں کی وجہ سے مارکیٹ کو سیل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گٹر میں گیس بھر جانے سے دکانیں منہدم ہوئیں تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی ٹیم عمارت کا جائزہ لینے کے بعد مارکیٹ کو دوبارہ کھولنے یا سیل کرنے سے متعلق فیصلہ کرئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر خوش گپیوں میں مصروف،مریض پریشان

گزشتہ روز سولجر بازار میں برساتی نالے پر بنی مارکیٹ کا بھی ایک حصہ بیٹھ گیا تھا۔ منہدم ہونے والی دکانوں میں کپڑے، سلائی مشینز اور الیکٹرانک اشیاء فروخت کی جاتی تھیں۔

اپریل میں پرانے اردو بازار میں برساتی نالے پر قائم 12 عمارتیں اس وقت گرگئیں تھیں جب گیس لیکیج کی وجہ سے نالے میں دھماکہ ہوا تھا۔ آتشزدگی سے تباہ ہونے والی 12 سے زیادہ عمارتوں میں اسٹیشنری، پرنٹنگ پریس، کتابوں کی دکانوں کے علاوہ بیکریاں اور سجاوٹ کے سامان کی دکانیں شامل تھیں۔

جوبلی مارکیٹ کی طرح اردو بازار اور موبائل مارکیٹ بھی برساتی نالے پر تعمیر کی گئی ہے۔ ان تمام مارکیٹس کی کافی عرصے سے دیکھ بھال نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر