پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کو گرفتار کرنے کا بل منظور
الزام ثابت ہونے پر صحافیوں کو 6 ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں تلخ کلامی کرنے پر اب صحافی اور بیورو کریٹس گرفتار ہوسکتے ہیں۔ ممبرز تحفظ استحقاق بل کے تحت اب کوئی بھی صحافی اسمبلی میں تلخ کلامی کرئے گا تو اسے سزا بھگتنا ہوگی۔
سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون مسترد ہونے کے بعد پنجاب میں صحافیوں کو گرفتار کرنے کا بل منظور کرلیا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں ممبرز تحفظ استحقاق بل کے تحت اب کوئی بھی بیوروکریٹ یا صحافی اسمبلی میں تلخ کلامی کرئے گا تو اسے سزا بھگتنا ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو ممبرز تحفظ استحقاق بل پنجاب اسمبلی سے منظور کرالیا گیا تھا۔ یہ بل ایجنڈا سے ہٹ کر ایوان میں لایا گیا جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک پیج پر نظر آئے۔ بل پیپلز پارٹی کے مخدوم عثمان نے پیش کیا، جس سے پنجاب اسمبلی کو عدالتی اختیارات مل گئے ہیں۔
بل کی دفعہ گیارہ اے کے تحت ممبرز کے استحقاق کی خلاف ورزی قابل سزا جرم ہوگی۔ معاملے پر جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے گی، جس کے بعد صحافیوں اور سرکاری ملازمین کو الزام ثابت ہونے پر 6 ماہ قید کی سزا اور 10 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ اس سزا کو دینے کا اختیار کمیٹی کے پاس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بل کابینہ سے منظور
اس بل کے تحت کسی ممبر کے استحقاق کو مجروح کیا گیا تو اسپیکر گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی ایم پی اے ایوان کے اندر کی گئی تقریر میں رد بدل کے حوالے سے اسپیکر کو شکایت کرے گا تو وہ بھی قابل گرفت سمجھا جائے گا۔ اسپیکر کے کنڈکٹ پر بھی کوئی بات نہیں کی جاسکے گی۔ سرکاری محکموں کے افسران بلانے پر نہ آئے تو وہ قابل گرفت ہوں گے۔
اس بل کے تحت محکمے کی طرف سے غلط جواب بھیجا گیا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ کسی ممبر کا استحقاق مجروح ہوا تو اسپیکر کے پاس اختیارات ہوں گے کہ وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ آفیسر کو کہہ کر گرفتار کروا سکیں گے۔اسپیکر کو اختیارات ہوں گے کہ اس بل کے تحت جوڈیشل کمیٹی میں کتنے ممبران رکھنے ہیں۔









