چین میں ترقی کرپشن سے ممکن ہوئی،ریماعمر کامضحکہ خیز دعویٰ

چین میں کرپشن کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں صحافی اور تجزیہ نگار خاتون ریما عمر نے کرپشن کو چین کی ترقی کی اصل وجہ قرار دے دیا۔

ریما عمر نے جیو نیوز کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ چین کی ترقی پرتحقیق کرنے والوں نے جو نتائج  اخذ کیے ہیں وہ ہمارے وزیراعظم کو پسند نہیں آئیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اداروں کولچکدار بنایا ہے، وہاں جسے ہم کرپشن کہتے ہیں وہ ہوئی ہے، وہاں وہ کچھ ہوا ہے جس کی  وزیراعظم صاحب روز مذمت کرتے ہیں۔

ریما عمر نے مزید کہا کہ چین کی ترقی آمرانہ اقدامات کی وجہ سے نہیں بلکہ اداروں کو لچکدار بنانے اور بدعنوانی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی بھی ریما عمر کے اس موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

بیگم خورشید شاہد کے انتقال کی خبر پر جیو نیوز کی فاش غلطی

چین میں کرپشن پر سزاؤں سے متعلق اعداد وشمار ریما عمر اور حفیظ اللہ نیازی  کے دعوؤں سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پروگرام اینکر نے ریما عمر کو خاموش کروادیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین میں کرپشن کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پرعمل کیا جاتا ہے۔ چین میں کرپشن کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔

چین میں معاشی جرائم سے متعلق حالیہ برسوں میں سخت ترین سزائیں سنائی گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک سرکاری ایسٹ منیجمنٹ کے سابقہ سربراہ لائی زیاؤمن کو رشوت اور کرپشن پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے 2016 میں چینی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ صدر شی جن پنگ کی حکومت کے ابتدائی تین سالوں میں 10 لاکھ افراد کو کرپشن پر سزائیں دی گئیں ۔

متعلقہ تحاریر