ارشد شریف نے صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیر دیں

ذرائع کے مطابق صدیق جان کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے سینئر اینکر پرسن ارشد شریف نے یوٹیوبر اور صحافی صدیق جان کو مبینہ طور پرتشدد کا نشانہ بناڈالا۔ نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق سی پیک کے فیز 2 کی افتتاحی تقریب کے سلسلے میں ارشد شریف اور صدیق جان گوادر میں موجود ہیں۔ واقعہ اتوار کی دوپہر گوادر کے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پیش آیا۔

ایک چیز پر دو شخصیات کا الگ الگ موقف اختلاف کہلاتا ہے، اگر یہ اختلاف اخلاص کے اندر رہے تو مذموم نہیں ہے۔ صحافت کا پیشہ کسی بھی ملک میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر صحافی ہی آپس میں دست و گریباں ہوں گے تو معاشرے کی اصلاح کا الم کون بلند کرے گا۔

ذرائع کے مطابق گوادر میں معروف اینکر پرسن ارشد شریف نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے نوجوان صحافی صدیق جان پر بدترین تشدد کیا۔ ذرائع کے مطابق اینکر پرسن کے ساتھیوں نے صدیق جان کی ٹانگیں اور بازو پکڑے لیے جس کے بعد معروف صحافی نے گھونسوں اور لاتوں کی بارش کردی۔ تشدد کے دوران صدیق جان کا موبائل فون بھی ٹوٹ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور دھماکے میں بھارت ملوث، کیا ایف اے ٹی ایف نوٹس لے گا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدیق جان کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ زخمی ہیں۔ دوسری جانب معروف اینکر پرسن اسد اللہ خان نے بتایا کہ دونوں صحافیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر اکثر تکرار ہوتی رہتی ہے تاہم آج ارشد شریف نے موقع دیکھ کر نوجوان صحافی پر حملہ کردیا۔ انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تفصیلات سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کردیں۔

معروف صحافی امجد حسین بخاری نے کہا کہ گواردر ریسلنگ کا میدان بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ اب تک صدیق جان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ تحاریر