افغانستان کے حالات پر ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے، حنا ربانی کھر

سابق وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کو طالبان کی پیش قدمی پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ افغانستان کے مشکل حالات میں پاکستان کو افغان عوام کا ساتھ دینا چاہیے لیکن ہمیں سب سے پہلے پاکستان کی فکر کرنی چاہیے۔ نیوز 360 سے خصوصی گفتگو میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ جوبائیڈن کی عمران خان کو کال نہ آنا بطور ریاست پاکستان کے لیے اچھا نہیں ہے۔

اسلام آباد میں نیوز 360 کے نمائندے محمد شیراز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان کے موجودہ حالات نہایت خراب ہیں، وہاں اس وقت خانہ جنگی ہورہی ہے۔ ہمیں ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا جبکہ پاکستان کو طالبان کی پیش قدمی پر بھی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات پر پاکستان کا کردار محض اتنا ہونا چاہیے کہ افغان عوام جس کو اپنا حکمران بنائیں ہم اس کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اصل کردار وہاں موجود مختلف مذاہب اور مسالک کا ہی ہو تو بہتر ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے نیوز 360 کو بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور امریکی افواج کا بارڈرز کو چھوڑ کر جانا افغانستان کے لیے خطرناک ہے، اس سے سرحدی حالات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرانے جارہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے مسئلے سے پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ اگر پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں کوئی کردار ادا کرتا ہے تو طویل مدت میں پاکستان کے لیے اچھے نتائج مرتب نہیں ہوں گے ۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے کیونکہ ماضی میں ہم جانبداری کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ نے نیوز 360 کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا امریکی صدر جوبائیڈن کی فون کال کا انتظار کرنا اور کال نہ آنا اور پھر اس پر تبصرے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ درست نہیں ہے۔

Facebook Comments Box