ملالہ کے والد نے وسیع القلبی کی نئی مثال قائم کردی

سندھ حکومت نے تاریخی اسکول سیٹھ کورجی کھیم جی لوہانہ گجراتی کا نام نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام پر منتقل کردیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی نے وسیع القلبی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے تاریخی گجراتی اسکول کا نام اپنی بیٹی کے نام سے ہٹا کر بحال کرنے کی درخواست کردی ہے۔

کراچی کے تاریخی گجراتی اسکول کا نام نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام پر منتقل کرنے پر ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی اور سماجی کارکن کپل دیو کی درخواست پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اسکول کا اصل نام بحال کرنے عندیہ دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی مویشی منڈی میں بیوپاریوں کے درمیان سخت مقابلہ

گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول کا نام تبدیل کرنے پر سماجی کارکن کپل دیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تاریخ کو تبدیل نہ کریں۔ سیٹھ کورجی کھیم جی لوہانہ گجراتی اسکول کراچی کا نام ملالہ یوسفزئی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ ہم وزیر تعلیم سعید غنی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ حکومت کسی نئے اسکول نام ملالہ یوسفزئی کے نام پر رکھے۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سنجے سدھوانی نامی صارف نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ تاریخ کو مذہب سے ہٹ کر دیکھا جائے تو مناسب نہیں ہوگا۔ سیٹھ کورجی کھیم جی لوہانہ گجراتی سکول کراچی کا نام ملالہ یوسف زئی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری سکول رکھنا کسی طور پر اچھا عمل نہیں ہے۔

 

ضیاءالدین یوسفزئی اور کپل دیو کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اسکول کا نام مقررہ عمل کے بعد باضابطہ طور پر بحال کیا جائے گا لیکن یقیناً ملالہ کے نام پر کسی اور اسکول کا نام رکھا جائے گا جس کا اس کی طرح کوئی پرانا نام نہیں ہوگا۔

 

ٹوئٹر صارف عثمان قاضی نے تاریخی عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کو سستی حرکت قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت پر تنقید کی ہے۔

Facebook Comments Box