لاہور ہائیکورٹ کا ججز کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کا قابل ستائش حکم

لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اس وقت تقریباً 15 لاکھ 38 ہزار 662 کیسز التواء کا شکار ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے پنجاب بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز اور عدالتی افسران کو سوشل میڈیا کے استعمال سے گریز کرنے کے حکم کو صارفین قابل ستائش قرار دے رہے ہیں۔ سائلین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کیسز کی تعداد کم کرنے میں خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اس وقت تقریباً 15 لاکھ 38 ہزار 662 کیسز التواء کا شکار ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کی منظوری کے بعد تمام ڈسٹرکٹ اور سیشنز کورٹس کے ججز اور عدالتی افسران کو رجسٹرار کی جانب سے مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عثمان مرزا کی نس بندی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق صوبے کے تمام ضلعی عدلیہ کے ججز ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت تمام دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال سے گریز کریں گے جبکہ ماتحت عدلیہ کے ججز پر غیرسرکاری واٹس ایپ گروپس میں شامل ہونے پر پابندی ہوگی۔

مراسلے کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے ججز کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ کے کچھ عناصر کی وجہ سے عدالتی وقار مجروح ہورہا ہے، لہذا عدالتی افسران کو اپنی سماجی زندگی محدود رکھنی چاہیے۔ ضلعی عدلیہ کے ججز صرف سرکاری واٹس ایپ گروپس استعمال کریں جبکہ غیرسرکاری واٹس ایپ گروپس میں معلومات شیئر کرنے والے ججز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

لاہور ہائیکورٹ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے ججز کے تبادلے کارکردگی اور مانیٹرنگ کی بنیاد پر کیے جائیں گے، من پسند علاقے میں تبادلے کے لیے سفارش کرنے والے ججز کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ججز کے تبادلوں کے لیے 6 سے 31 جولائی تک کارکردگی جانچی جائے گی۔

مراسلے کے مطابق ضلعی عدلیہ کے ججز ہر قسم کی خط و کتابت رجسٹرار ہائی کورٹ اور متعلقہ سیشنز ججز کے ذریعے کرنے کے پابندی ہوں گے۔ سرکاری اور نجی گاڑیوں پر نیلی لائٹ اور سبز نمبر پلیٹس لگانے والے ججز اور جوڈیشل افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

مراسلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور دیگر ججز کی عدالتی کارروائی بغیر اجازت دیکھنے پر پابندی ہوگی، بغیر اجازت ہائی کورٹ آنے والے ججز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی کارروائی کی عمل میں لائی جائے گی۔ ضلعی عدلیہ کے ججز وقت اور یونیفارم کی پابندی یقینی بنائیں گے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ رواں سال جون میں جاری اعدادوشمار کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اس وقت کل ججز کی سیٹوں کی تعداد 60 ہے جن میں سے 50 پر ججز تعینات ہیں جبکہ 10 نشستیں خالی پڑی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء مقدمات 1 لاکھ 93 ہزار 30 ہے۔

 پنجاب کے ڈسٹرکٹ اور سیشن کورٹس میں 13 لاکھ 45 ہزار 632 مقدمات التوا کا شکار ہیں، پنجاب کی ڈسٹرکٹ عدالتوں میں 2 ہزار 364 ججز کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت 1 ہزار 616 ججز تعینات ہیں، اور 748 نشستیں خالی ہیں۔

Facebook Comments Box