کراچی کے پولیس اہلکار کا بحالی سینٹر مرکز نگاہ

بحالی مرکز سے اب تک 300 افراد صحتیاب ہوکر جاچکے ہیں۔

کراچی کے ایک پولیس اہلکار نے منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کو معاشرے کا باعزت شہری بنانے کا بیڑا اٹھالیا ہے، سب انسپکٹر عبد الخالق انصاری منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مرکز چلا رہے ہیں۔ 10 ماہ کے دوران بحالی مرکز سے اب تک 300 افراد صحتیاب ہوکر جاچکے ہیں۔

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر10 ہریانہ کالونی میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا ایک ایسا ادارہ موجود ہے جسے کوئی عام آدمی یا سیاسی تنظیم نہیں بلکہ کراچی پولیس کے ایک سب انسپکٹر عبد الخالق انصاری گزشتہ 10 ماہ سے چلا رہے ہیں۔ ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں اس وقت 50 سے زائد ایسے نوجوان زیر علاج ہیں جو آئس، ہیروئن اور ان جیسے کئی مہلک نشے کی لت میں مبتلا ہوکر اپنی زندگیاں تاریک کر بیٹھے تھے۔ خوش قسمتی سے ان نوجوانوں کی زندگیاں ان ہاتھوں میں آگئیں جن ہاتھوں نے نہ صرف انہیں سہارا دیا بلکہ جینے کی امید بھی دلائی۔

کراچی پولیس کے سب انسپکٹر کی جانب سے قائم کیے جانے والے منشیات بحالی مرکز کو چلانے کے لیے علاقہ مکین، مختلف فلاحی ادارے اور مخیر حضرات بھی تعاون کرتے ہیں۔ یہاں نوجوانوں کی کیفیت کے اعتبار سے وارڈز مختص ہیں۔ جن میں نہ صرف ان نوجوان کو علاج کی غرض سے رکھا جاتا ہے بلکہ مضبوط ارادے اور عزم کے ساتھ منشیات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ سینٹر میں زیر علاج نوجوان بھی نشے سے چھٹکارے کے بعد نئے سرے سے زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سیکیورٹی کی ابترصورتحال، کے پی کے حکومت کا غیرسنجیدہ فیصلہ

ایس ایچ او تھانہ شریف آباد عبد الخالق انصاری کا دعویٰ ہے کہ  جو جگہ کچھ عرصہ پہلے تک منشیات فروشوں کا گڑھ تھی اسے اب اس لت میں مبتلا افراد کی بحالی کا ادارہ بنادیا گیا ہے۔

مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کے تعاون سے چلنے والے اس مرکز میں زیرعلاج افراد کی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔ وارڈز میں ٹی وی اور میوزک سسٹم موجود ہیں۔ نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں اور نماز میں مشغول رکھا جاتا ہے اور انہیں صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عبد الخالق انصاری کے مطابق 10 ماہ کے دوران بحالی مرکز سے اب تک 300 افراد صحتیاب ہوکر جاچکے ہیں۔

Facebook Comments Box