شمالی سندھ کا علاقہ خواتین کے لیے جہنم، بلاول بھٹو توجہ دیں

سماجی تنظیم سندھ سہائی آرگنائزیشن کے مطابق رواں سال اب تک سندھ میں کاروکاری کے الزام میں 66خواتین اور 25 مردوں کو قتل کیا جاچکا ہے

عام طور پر غیرت کے نام پر قتل کو کاروکاری کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت صوبہ سندھ کاروکاری کی عفریت کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ شمالی سندھ کا علاقہ کاروکاری کے الزام میں قتل ہونے والی خواتین کے لیے جہنم بن چکاہے، گزشتہ 6 ماہ کے دوران 66 خواتین سمیت 91 افراد کو قتل کردیا گیا، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دینا چاہیے۔

سندھ اور خصوصی طور پر شمالی سندھ میں خواتین کے حقوق اور سیاہ کاری (کاروکاری) پر کام کرنے والے سرگرم سماجی تنظیم سندھ سہائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کا کہنا ہے کہ 91 مرد و خواتین کا قتل سندھ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عدلیہ فواد چوہدری کے نشانے پر کیوں؟

کاروکاری کے الزام میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں قتل ہونے والے مرد و خواتین کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کا کہنا تھا کہ کشمور کندھ کوٹ ضلع میں 13 خواتین اور تین مردوں سمیت 16 افراد کو، جیکب آباد میں 13 مرد و خواتین کو، شکار پور میں 9 خواتین سمیت 10 افراد کو، سکھر میں 5 خواتین اور چار مردوں سمیت 9 افراد کو، گھوٹکی میں 7 خواتین کو، لاڑکانہ میں 6 خواتین کو، خیرپور میں 5 خواتین سمیت دیگر اضلاع میں 25 مرد و خواتین کو موت کی ابدی سلا دیا گیا۔

ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کشمور کندھ کوٹ، شکارپور، گھوٹکی اور سکھر کے کچے کے علاقے میں 6 خواتین کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو دریا برد کردیا گیا مگر پولیس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کسی ملزم کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گی۔ گھوٹکی کے علاقے دادلغاری میں تو ایک خواتین کو زندہ دفنانے کا دل خراش واقعہ ہوا مگر گھوٹکی پولیس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ابھی تک کوئی ملزم قانون کی گرفت میں نہیں آیا ہے۔

سندھ سہائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ کشمور میں شوہر رشید بنگوار نے شادی کی پہلی رات بیوی صغراں کو قتل کر کے لاش کو دریا میں پھینک دیا تھا، خاتون کے ورثاء انصاف کے لیے دربدر ہیں مگر پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کا کہنا تھا کہ ایک جانب کرونا کی وباء کی وجہ سے ساری دنیا میں لاک ڈاؤن چل رہا تھا تو وہیں دوسری جانب سندھ میں اتنے بڑے پیمانے میں مرد و خواتین کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ یہ سب کچھ حکومت سندھ اور سندہ پولیس کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ سہائی تنظیم خواتین کے حقوق سمیت سیاہ کاری (کاروکاری) کے قتل عام جیسے گھناؤنے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کررہی ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ خواتین کے حقوق اور انکے تحفظ کیلئے قوانین تو بنائے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتاہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر کاروکاری قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ہم سب کو مل کر اس قتل عام کی روک تھام کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ خواتین میں پائی جانے والی بے چینی و مایوسی اور عدم تحفظ والی فضاء کو ختم کیا جاسکے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک روشن خیال سوچ کی جماعت ہے اور سندھ میں گزشتہ 13 سالوں سے  برسراقتدار ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری خود بھی خواتین کو برابری کے حقوق دینے کے علمبردار ہیں۔ سندھ حکومت اور بلاول بھٹو زرداری کو ایسے واقعات کی روک تھام کے انتہائی اقدام کرنے ہوں گے تاکہ خواتین کے اندر احساس تحفظ پیدا ہو۔ کیونکہ سندھ میں کاروکاری کے الزام قتل ہونے افراد میں سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

Facebook Comments Box