انتخابی مہم، آزاد کشمیر بھی مقبوضہ کشمیر بن گیا

علی امین گنڈا پور کے قافلے پر پتھراؤ اور گولیاں چلنے کے بعد وادی میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

آزاد کشمیر میں اس وقت انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ سیاسی گرما گرمی بڑھنے کے ساتھ شدت پسندی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے قافلے پر پتھراؤ اور اس کے ردعمل میں گولیاں چلنے کے بعد آزاد کشمیر بھی مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کررہا تھا۔

آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم تیز ہوگئی ہے۔ دوران مہم سیاسی مخالفین کی طرف سے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانا تو کوئی نئی بات نہیں لیکن کچھ مقامات پر انتشار کی صورتحال کے بعد آزاد کشمیر میں بھی مقبوضہ کشمیر کی جھلک دکھائی دی۔گزشتہ روز کھن بندوے کے مقام پر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے قافلے پر کچھ مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور وفاقی وزیر کی گاڑی پر انڈے پھینکے۔ جواب میں علی امین گنڈا پور اور ان کے سیکیورٹی گارڈز نے بھی فائرنگ کردی جس سے ماحول کشیدہ ہوگیا۔

فائرنگ کے بعد وفاقی وزیر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے چلے گئے۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے شاہراہ سری نگر بند کردی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ان پر حملہ کروایا جبکہ لیگی رہنماؤں نے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

علی امین گنڈا پور انتخانی مہم کے ولن یا ہیرو؟

آزاد کشمیر میں وفاقی وزرا کے سیکیورٹی گارڈز کی طرف سے فائرنگ اور ان پر پتھراؤ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو مقبوضہ کشمیر سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ شہریوں کے مطابق بھارتی مظالم کے سبب ایسے واقعات ہمیں مقبوضہ وادی میں نظر آتے ہیں لیکن اب ہمارے سیاستدانوں نے بھی آزاد کشمیر میں وہی صورتحال پیدا کردی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے انتخابی مہم کے دوران علی امین گنڈا پور کو ایک شخص نے جوتا مارا تھا۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر مراد سعید کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف، (ن) لیگ ، پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتیں مدمقابل ہیں۔

Facebook Comments Box