افغانستان میں ذلت، بھارت کی پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں شروع

تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا خطے میں اپنی کمزور ہوتی طاقت اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوفزدہ ہے۔

ایک جانب امریکی افواج کے انخلاء کے بعد طالبان نے افغانستان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے تو وہیں دوسری جانب بھارت نے افغانستان میں ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

امریکی فوج کے انخلاء اور افغان صوبے قندھار پر طالبان کے قبضے کے بعد انڈیا نے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلالیا ہے۔

پاکستان نے متعدد بار ثبوتوں کی ساتھ اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ انڈیا افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دہشتگردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے۔

یہ بھی پرھیے

افغان صورتحال، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

حالیہ صورتحال کے پیش نظر افغان طالبان جلد افغانستان پر قابض ہو جائیں گے۔ افغانستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ڈوبنے کے خوف میں مبتلا بھارت نے پاک چین اقتصادی راہدری ( سی پی ای سی) کو سبوتاژ کرنے کے لیے ناجائز طریقوں کا استعمال شروع کردیا ہے۔

پاکستانی حکومت نے دہشتگردی کی حالیہ لہر کے پیچھے بھی بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، جو امریکی افواج کے انخلاء شروع ہونے کے بعد سے بڑھ چکی ہے۔

تازہ واقعے میں داسو میں چینی انجینیئرز اور کارکنان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دھماکے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دھماکے میں بارودی مواد کے آثار ملے ہیں، جس میں چینی شہریوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ بس کارکنان کو خیبر پختون خوا (کے پی) سے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سائٹ پر لے کر جارہی تھی جو سی پیک کا حصہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ٹیلی فونک رابطہ میں داسو واقعے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چینی شہریوں کی سلامتی پاکستان کی اولین ترجیح ہے، داسو واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔ دشمن قوتوں کو پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” 16 جولائی کو ہونے والا جوائنٹ کوآرڈینش کمیٹی کا 10واں اجلاس ملتوی کردیا گیا جس کی تاریخ کا مشترکہ اعلان عید کے بعد کیا جائے گا، تاہم میٹنگ کے حوالے تیاری جاری ہے۔

اسی طرح جمعرات کے روز بلوچستان میں پسنی کے قریب خدا بخش بازار میں ایک دیسی ساختہ بم دھماکے سے فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بم دھماکے میں کیپٹن افان مسعود اور سپاہی بابر زمان نے جام شہادت نوش فرمائی تھی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر پاکستانی فوج پر یہ دوسرا حملہ تھا۔

منگل کے روز خیبر پختونخواہ کے ضلع کرم میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید ہوگئے تھے۔

رواں سال جون میں لاہور میں ہونے والے ایک دھماکے کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے سرانجام دیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی (این ایس اے) معید یوسف کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور بم دھماکے میں انڈیا کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد حاصل کرلیے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور بم دھماکے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہو گئے تھے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنی ذلت اور رسوائی کا بدلہ پاکستان میں دہشتگتردانہ کارروائیاں کرکے لے رہا ہے۔ بھارت سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچانے کے در پر ہے، کیونکہ سی پیک کے فعال ہونے سے پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب بھارت خطے میں اپنی کمزور ہوتی ہوئی گرفت اور افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد تذبذب کا شکار ہے، اور دوسری جانب چین ، روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھارہے، اس لیے بھارتی سرکار ہر وہ حربہ استعمال کررہی ہے جس سے سی پیک اور پاک چین تعلقات کا خاتمہ ہوسکے۔

Facebook Comments Box