پاکستان کی نظریں وسط ایشیائی ریاستوں پر مرکوز

سیاسی اور عسکری قیادت کی وسط ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی پر پوری دنیا کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں۔ ایسے میں قیام امن کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے اپنا رخ وسط ایشیائی ریاستوں کی طرف کرلیا ہے۔ پاکستان کو بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

امریکا سمیت دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان طالبان نے افغانستان کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے تاجکستان اور ایران کے بعد پاکستان سے متصل افغان سرحد پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق افغانستان کی اہم شاہراہیں اور علاقے اپنے قبضے میں لینے کے بعد کئی ممالک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغانستان میں کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یکجا ہوکر پرامن افغانستان کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پاکستان نے اپنا رخ وسط ایشیائی ممالک کی طرف کرلیا ہے جہاں مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اس وقت ازبکستان میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ازبک صدر سے ملاقات کرکے افغانستان سمیت خطے کی مجموعی  صورتحال پر گفتگو کی۔ تاشقند میں وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان اور ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے، ہم وہاں پرامن سیاسی حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن کے بعد پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے منصوبے سے پورے خطے میں انقلاب آئے گا۔ افغانستان کو اہم تجارتی راستوں میں شامل کرنے سے جنوبی اور وسط ایشیائی ریاستوں میں روزگار کے مواقعے پیدا ہوں گے۔ تجارت سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان کو پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی بھی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے سے ازبکستان کو بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیاء تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

یہ ھی پڑھیے

افغانستان میں ذلت، بھارت کی پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیاں شروع

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ازبکستان کے اہم مقاصد ہیں۔ افغانستان کی بدلتی صورتحال کے بعد یہ دورہ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے سیکیورٹی اور معاشی طور پر کارآمد ثابت ہوگا۔ فواد چوہدری نے علاقائی روابط کے بارے میں کانفرنس سے متعلق بتایا کہ اس میں 60 سے زائد ممالک شرکت کر رہے ہیں اور اس میں معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے تاجکستان کے شہر دشنبے میں تھے جہاں انہوں نے اپنے تاجک اور افغان ہم منصب سے ملاقاتیں کیں جس میں افغانستان کی پرامن سیاسی حل پر بات چیت کی گئی۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کچھ روزقبل وسط ایشیائی ممالک کے دورے پر تھے، انہوں نے آذربائیجان میں صدر الہام علیوف اور وزیرِ دفاع کرنل جنرل حسنوف ذاکر اصغر سے ملاقاتیں کیں، جن میں افغان امن عمل میں پیشرفت  اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بات  چیت ہوئی۔ گزشتہ روز تاجکستان کے وزیر دفاع نے بھی آرمی چیف سے ملاقات کی تھی جس میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغانستان کے پرامن سیاسی حل سے پاکستان سمیت پورے خطے میں امن کی راہیں ہموار ہوں گی اور تجارت کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے وسط ایشیائی ممالک کے دورے بھی اس کی کڑی ہیں، پاکستان امن کے بعد افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے۔

Facebook Comments Box