کلثوم حئی کی کہانی گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے مشعل راہ

کلثوم حئی نے گھریلو تشدد کا شکار خواتین کو پیغام دیا کہ وہ خود کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں۔

حیدرآباد میں شوہر کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہونے والی قرت العین کے واقعے نے جہاں سب کے دل دھلا دیے ہیں وہیں اب سوشل میڈیا پر لوگ خواتین کو بااختیار بننے کے مشورے دے رہے ہیں۔ خاتون آفیسر کلثوم حئی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی کہانی سناتے ہوئے خواتین کو معاشی طور پر مستحکم ہونے کا درس دیا۔

کچھ روز قبل حیدرآباد میں قرت العین کو اس کے شوہر نے نشے کی حالت میں سخت تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد معصوم بچوں کے سامنے قتل کردیا تھا۔ اس بہیمانے قتل کے بعد ملک بھر میں ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف تحاریر کے ذریعے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔ سی ایس ایس آفیسر کلثوم حئی نے بھی اپنی کہانی ٹوئٹر پر شیئر کردی۔ انہوں نے لکھا کہ شوہر کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جب وہ اپنے والدین کے پاس گئیں تو انہیں 2 مرتبہ واپس بھیجا گیا، جس پر انہوں نے اپنی بیٹی کے ہمراہ الگ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ کلثوم حئی کے مطابق انہوں نے 2005 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا، تعلقات مزید خراب ہونے پر 2012 میں شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ طلاق کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر منتقل ہوگئیں۔ ایک آفیسر ہونے کی وجہ سے آج وہ ایک مضبوط خاتون ہیں۔ انہوں نے گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو ظلم سہنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزارنے کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد جنسی تشدد کیس، پولیس نے مضبوط مقدمہ بنایا ہے

ایک اور ٹوئٹ میں کلثوم حئی نے لکھا کہ ایک کامیاب خاتون ہی گھریلو تشدد کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ خواتین کو معاشرے کی پرواہ کیے بغیر خود کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کلثوم حئی کو ان کی بہادری پر سراہا جارہا ہے۔ چند خواتین کے مطابق معاشی طور پر مضبوط خواتین ہی گھریلو تشدد کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ والدین اپنی بچیوں پر اعتبار کرکے انہیں مستحکم بنانے میں کردار ادا کریں تاکہ کوئی اور بیٹی قرت العین نہ بن سکے۔

Facebook Comments Box