چور، ڈاکو یا غدار کون جیتے گا آزاد کشمیر انتخابات

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 نشتوں کے لیے انتخابات 25 جولائی کو شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کل ہونے جارہے ہیں۔ 45 حلقوں کے لیے 700 سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مخالفین کے لیے چور ، ڈاکو ، کشمیر فروش اور غدار جیسے القابات کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

ہفتے کی رات 12 بجے انتخابی مہم کا اختتام ہو گیا مگر دیکھنا اب یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں چور ، ڈاکو ، کشمیر فروش یا غداد میں سے کون کامیاب ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے انتخابی جلسوں میں وزیراعظم عمران خان کے لیے کشمیر فروشی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی عمران خان کا نام لیا جائے گا انہیں چینی چور ، بجلی چور اور کشمیر فروش کے نام سے یاد کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کے انتخانی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے بڑا ایکٹر میں نہیں دیکھا انہوں نے ایکٹنگ میں ہالی ووڈ کے اداکاروں کو بھی مات دے دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف زرداری کو سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کو نوٹ گننے سے فرصت نہیں ملی کہ وہ آزاد کشمیر کے انتخابات کی جانب دھیان دے سکتے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان نے کشمیر پر اپنا موقف تبدیل کرلیا؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو وہ لوگ غدار کہہ رہے ہیں جنہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو این آر او دے رکھا ہے۔ ہم عمران خان کو کشمیر کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو ٹرن لینے والوں کو عوام نے مسترد کردیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 12 حلقوں میں کاٹنے دار مقابلہ متوقع ہے۔ 32 لاکھ سے زائد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے 25 ہزار پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ 700 سے زائد رینجرز اور فوجی جوانوں کی ڈیوٹی لگائی ہے۔ انتخابات کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

گیلپ سروے کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات میں 44 فیصد کشمیری پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ 12 فیصد کشمیری مسلم لیگ ن کو ووٹ دینا چاہتے ہیں اور 9 فیصد کشمیری پاکستان پیپلزپارٹی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments Box