نادرا کے تحت ہزاروں جعلی شناختی کارڈز بننے کا انکشاف

طارق ملک کا کہنا ہے کالی بھیڑوں میں پھنسے محنتی اور محب وطن نادرا ملازمین کو آگے لانا میرا مقصد ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نادرا کے تحت ہزاروں جعلی شناختی کارڈز بننے کا انکشاف ہوا ہے۔ شناختی کارڈز کی تصدیق ، تجدید اور تصحیح کا نیا نظام لارہے ہیں۔ جو پیسے لے کر کارڈز بناتےہیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ “کرپشن اور ملک دشمنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ہے، جو بھی کرپشن میں ملوث ہوگا بلاتفریق قانون کے مطابق سزا ہو گی۔”

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو شناختی کارڈز مشکوک ہوں گے انہیں پیغام بھیجے جائیں گے۔ جو غیرملکی بغیر ویزا تجدید کے پاکستان میں رہ رہے ہیں وہ 14 اگست تک پاکستان کو چھوڑ دیں۔ جو لوگ ویزا تجدید کے درخواست دیں گے ان کی فیس معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انتخابات کے دوران جو 840 شناختی کارڈز جاری کیے گئے انہیں مسترد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

سیاحتی مقامات پر سہولیات ناپید، سیاح مشکلات کا شکار

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے چیئرمین نادرا نے لکھا ہے کہ “3 ہفتے قبل جب چارج سنبھالا تو یہ کھلا کہ یہ وہ نادرا نہیں ہے جسے 2013 میں چھوڑ کر گیا تھا۔ کالی بھیڑوں اور سفید ہاتھیوں میں پھنسے ہوئے محنتی ، محب وطن اور نظرانداز ملازمین کو آگے لانا ہے۔”

 

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ “نادرا میں ڈیٹابیس کی جانچ پڑتال کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا- نادرا “تصدیق و تجدید” کی ایک ہمہ جہتی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے- جسکے تحت تکنیکی طور پر غیر ملکیوں کے کارڈ اگر نادرا کے ریکارڈ سے ملے تو غیر فعال کر دیئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ طارق ملک نے 10 جولائی کو کراچی میں نادرا کے ریجنل ہیڈ آفس کا اچانک دورہ کیا تھا اس موقع پر انہوں نے ایجنٹ مافیا کے ساتھ ملی بھگت کرکے کام کرنے اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور نامناسب سلوک پر 39 ملازمین کو فوری طور پر معطل کردیا تھا۔

کرپشن دشمنی چیئرمین نادرا
DUNYA NEWS

انہوں نے نادرا آفس میں موجود سائلین سے گفتگو کی اور ان کے مسائل سنے اور موقع پر ان کو حل کرنے کے احکامات بھی دیے۔

اس موقع پر چیئرمین نادرا طارق ملک نے ملازمین سے خطاب کے دوران کہا کہ ادارے میں موجود بدعنوان اور کرپٹ عناصر کو قوائد و ضوابط کے مطابق سزا دی جائے گی ۔ ناقص کارکردگی  بالکل  برداشت نہیں کی جائے گی۔ محدود وسائل کے باوجود تمام ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ملازمین کے مفاد کو قیمت پر ترجیح دی جائے گی۔ نادرا میں خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

Facebook Comments Box