کشمیر میں شکست، کیا مریم اس مرتبہ دھرنا دے پائیں گی؟

آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے دھاندلی کی صورت میں دھرنے کی دھمکی دی تھی۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں شکست کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کیا اس مرتبہ اسلام آباد میں دھرنا دے پائیں گی۔؟ انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا تھا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو وہ اور ان کی پارٹی وفاقی دارالحکومت میں شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گی۔

25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں جمعرات کے روز یعنی 22 جولائی کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے کارکنان نے چوری شدہ ووٹ چھیننے کا فن سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گی اور دھرنا دیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

نادرا کے تحت ہزاروں جعلی شناختی کارڈز بننے کا انکشاف

25 جولائی کو ہونے والے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تمام حلقوں کے نتائج آ گئے ہیں سوا ایک حلقے کے جہاں تصادم کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی تھی۔

نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے انہوں نے 44 نشستوں کے ایوان میں سے 25 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے ، دوسرے نمبر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہی انہوں نے 11 نشستیں اپنے نام کرلی ہیں جبکہ آزاد کشمیر کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حصے میں صرف 6 نشستیں آئی ہیں۔

گزشتہ روز آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ “میں نے نتائج تسلیم نہ کیے ہیں اور نہ ہی کروں گی۔ 2018 کے نتائج بھی تسلیم نہیں کیے اور نہ ہی اس جعلی حکومت کو مانا ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں ورکرز اور ووٹرز کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بے شرم دھاندلی پر کیا لائحہ عمل ہوگا، ان شاء اللہ جماعت جلد فیصلہ کرے گی۔

مریم نواز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں نے کشمیر کے انتخابات میں شکست کے بعد مریم کی دھرنا دینے کی دھمکیوں کو سیاسی بیان بازی سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کو راضی کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اس سے قبل جب حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جھنڈے تلے پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف جمع ہوئی تھیں تو مریم نواز نے تب بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ پر زور دیا تھا۔ تاہم لانگ مارچ پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے پی ڈی ایم کی تحریک دم توڑ گئی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے رہنما آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں یا پھر یہ بھی خالی دھمکی ثابت ہو گی۔

Facebook Comments Box