تیز بارش کے بعد نالہ لئی میں طغیانی

برساتی ریلے میں شہریوں کی گاڑیاں بہہ جانے کے بعد انتظامیہ نے پاک فوج سے مدد طلب کرلی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریکارڈ بارش کے بعد نالہ لئی میں طغیانی کی صورتحال ہے۔ پانی کے ریلے میں لوگوں کی گاڑیاں بہہ جانے کے بعد انتظامیہ نے پاک فوج سے مدد طلب کرلی ہے۔ پاک فوج اور دیگر ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے نالہ لئی کا دورہ کیا۔

ملک کے بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں مون سون کی ریکارڈ بارش نے جل تھل ایک کردیا ہے۔ ایک گھنٹے میں 330 ملی میٹر بارش سے نالہ لئی میں طغیانی آگئی جبکہ 9 سے زائد نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق تیز بارشوں کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح 21 فٹ تک بلند ہوئی جس پر خطرے کے سائرن بجا کر لوگوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ بارش کا پانی سیکٹر ای الیون میں لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔ پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث کئی لوگوں کی گاڑیاں بہہ گئی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آریہ محلہ، جاوید کالونی، شیرون کالونی، ہزارہ کالونی، ٹالی موہڑی، آئی جے پی روڈ سمیت دیگر مقامات پر بھی سیلابی پانی آبادی میں داخل ہوا۔ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے پاک فوج کی غوطہ خور ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو باہر نکالا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بالائی علاقوں میں تیز بارشوں کے باوجود سیاحوں کا رش

آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے دستے، ریسکیو اور امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد میں مصروف ہیں۔ ترجمان کے مطابق سیلاب کے بعد ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی پلان بھی تشکیل دے دیا گیا ہے۔

دوسری جانب تیز بارشوں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے نالہ لئی میں طغیانی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بروقت نالہ لئی کی صفائی سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ اگلے 3 ماہ میں نالہ لئی ایکسپریس وے منصوبے پر بڑی خوشخبری ملے گی۔

محکمہ موسمیات نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں نالیوں کی صفائی کا کام مزید تیز کردیا ہے۔

Facebook Comments Box