نور مقدم قتل کیس، اخبارات نے صحافتی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں

کچھ اخبارات نے نور مقدم قتل کے مرکزی ملزم کے والدین کی جانب سے تعزیتی پیغام شائع کیا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کچھ اخبارات نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی جانب سے ایک تعزیتی پیغام شائع کیا گیا ہے۔ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے کے بعد اس کا سر تن سے جدا کردیا تھا۔

پیغام شائع ہونے کے فوری بعد سوشل میڈیا صارفین نے اخبارات اور ظاہر جعفر کے والدین کی مذمت کرنا شروع کردی۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک قاتل جس کے والدین خود اس کیس میں نامزد ہیں اُن کی جانب سے تعزیت کا پیغام شائع کرتے ہوئے اخبارات کو صحافتی اقدار کا خیال کرنا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جس پیرائے میں تعزیتی مضمون شائع کیا گیا ہر شخص اس کی مذمت کررہا ہے اور انگلش روزنامے کی اختلاقیات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ایک صارف نے پیغام شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب ملزم (ظاہر جعفر) کے والدین پولیس تحویل میں تھے تو تعزیتی پیغام کیسے شائع ہوگیا۔

عادل حسین نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ “ظاہر جعفر کے والدین جیل میں بیٹھ کر سب کچھ “مینج” کر رہے ہیں، ان کا حلقہ اثر کتنا وسیع ہے۔ کیا نہیں۔؟”

کچھ صارفین نے کہا ہے کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدمجی کی بے باک حرکت سے متاثرہ خاندان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

ٹوئٹر صارف ایمان زینب مزاری نے لکھا ہے کہ “کیس میں پیسے کا استعمال شروع کردیا گیا۔”

تعزیتی پیغام کے مندرجات

ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی جانب سے شائع ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ “ہم نور مقدم کے بہیمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہم نور مقدم کے خاندان اور اس کے چاہنے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔”

بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نور مقدم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔”

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی آپ کے دکھ کم نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی آپ کی کھوئی ہوئی خوشی کو واپس لا سکتا ہے۔ ہم ظاہر جعفر کے ہر اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف اخبارات میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی جانب تعزیتی پیغام شائع کیا گیا ہے۔ نور مقدم قتل کیس بہت حساس نوعیت کا کیس ہے ایسے میں اخبارات نے پیغام شائع کرکے انتہائی غیرذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ٹھیک ہے کہ اخبارات میں کوئی بھی شخص کسی بھی نوعیت کا پیغام چھپوا سکتا ہے، مگر اخبارات کو اپنی صحافتی ذمے داری اور کیس کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ایسے اشتہارات کی تشہیر سے گریز کرنا چاہیے تھا، اور وہ بھی اس موقع پر جب کیس عدالت میں چل رہا ہے۔

Facebook Comments Box