سندھ میں لاک ڈاؤن، پی ٹی آئی اور تاجروں کی مخالفت

سندھ میں کل سے ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد صوبے بھر میں ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کردی ہے جبکہ تاجروں نے احتجاج کا عندیہ دے دیا ہے۔

کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کرونا وائرس ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں 7 دن کے لیے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لاک ڈاؤن کا اطلاق کل سے 8 اگست تک ہوگا۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران سندھ بھر کی تمام مارکیٹیں بند رہیں گی جبکہ میڈیکل اسٹورز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ پیر سے تمام سرکاری اور نجی دفاتر بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایکسپورٹ انڈسٹری کھلی رہے گی۔ اجلاس میں صوبے کی ٹرانسپورٹ بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران جو شخص اپنے گھر سے باہر نکلے گا اس کا انتظامیہ کی جانب سے ویکسینیشن کارڈ چیک کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق 31 اگست کے بعد ویکسینیشن نہ کرانے والے ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجود تمام اپوزیشن ایم پی ایز اور کاروباری حضرات نے حکومتی فیصلے کی مخالفت کی لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن لگانے کا اصولی فیصلہ کیا۔

پاکستا تحریک انصاف اور کراچی کے تاجروں نے لاک ڈاؤن کے فیصلے کی مخالفت کردی ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ عجلت میں لاک ڈاؤن کے فیصلے سے تاجروں اور غریبوں کو نقصان ہوگا۔ سندھ حکومت این سی او سی کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپناتی تو بہتر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں کرونا کیسز بڑھنے لگے، فرار مریضوں کا پتہ نہ لگ سکا

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے سے غریب مزدور، محنت کش طبقہ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے 45 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

عتیق میر نے مزید کہا کہ سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن سے کراچی کے تاجروں کو 50 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ حکومت کو لاک ڈاؤن کے بجائے ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے خلاف تاجر احتجاج پر مجبور ہوئے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی۔

Facebook Comments Box