قمبر کے گاؤں گھٹھڑ کی واٹر سپلائی اسکیم 1988 سے التواء کا شکار

پانی کی عدم فراہمی کے وجہ سے گھٹھڑ گاؤں کے چھوٹے بچوں کو پانی بھرنے کے لیے 5 سے 6 کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع قمبر شہزاد کوٹ کے گاؤں گھٹھڑ میں سولر سسٹم واٹر سپلائی لائن اسکیم جو 2018 میں شروع کی گئی تھی پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے حکومتی توجہ کی منتظر ہے، جبکہ اس سے قبل 1988 میں شروع کی گئی فراہمی آب کی اسکیم تاحال التواء کا شکار ہے۔

کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کی گئی اسکیم سے 3 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود پانی کی فراہمی شروع نہیں کی گئی ہے۔ گھٹھڑ گاؤں کے مکینوں نے تحقیقات اداروں اور نیب سے درخواست کی ہے کہ اسکیم کی ناکامی کے پیچھے کون کون سے کردار موجود ہیں انہیں بے نقاب کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف کے رہنما انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ

مکینوں کا  کہنا ہے کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے پڑھائی سے محروم ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اپنے گھروں کے لیے پانی بھرنے کے لیے پانچ پانچ چھ چھ کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

پانی بھرنے والے بچوں نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “ہمارے بڑے روزی روٹی کے لیے کام پر جاتے ہیں اس لیے ہم بچے پانی بھرنے آتے ہیں، اس کے لیے ہم گدھا گاڑی، موٹر سائیکل اور رکشہ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

نیوز 360 کے نامہ نگار کے مطابق اسکیم کا نام واٹر سپلائی اسکیم گھٹھڑ ہے۔ اسکیم کی بنیاد ریونیو ریکارڈ کے مطابق یو سی یارو دیرو تحصیل وارھ کی حدود میں رکھی گئی تھی۔ اسکیم کے لیے ٹرانسفارمر نصب کیا گیا ہے تاہم بجلی کی فراہمی کے لیے سپلائی لائن نہیں دی گئی ہے، صرف سولر سسٹم کا کنکشن دیا گیا۔

قمبر شہزاد کوٹ کے گاؤں گھٹھڑ کے لیے واٹر سپلائی کی پہلی اسکیم 1988 میں متعارف کرائی گئی تھی جس مقصد علاقہ مکینوں کو ان کے گھروں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم وہ اسکیم بھی کرپشن کی نذر ہو گئی تھی۔ محکمہ جاتی کرپشن کی وجہ سے اسکیم کے لیے جو ٹرانسفارمر نصب کیا گیا تھا نہ تو اس کا کوئی بل کا ریکارڈ موجود ہے اور نہ ٹرانسفارمر کا کوئی نمبر موجود ہے۔

نیوز 360 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا مزید کہنا ہے کہ ایک اسکیم 1988 میں شروع کی گئی اور دوسری اسکیم 2018 میں شروع کی گئی تھی مگر ہمارا پانی کا مسئلہ جوں کا توں ہے، سندھ حکومت خصوصی توجہ دے اور ہمارے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

Facebook Comments Box