ن لیگ میں اختلافات، نواز مغرب جبکہ شہباز مشرق کی جانب

شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے نواز شریف کے بیانیے کو تبدیل کروانے کے لیے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بدترین شکست اور سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں ہار کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات سربراہ نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ن لیگ کے صدر کا کہنا ہے کہ ہمیں اب ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اور اس وقت ملک کی 22 کروڑ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، غلطیاں ہم سب سے ہوئی ہیں، مشرقی کا جدا ہو جانا سب سے بڑا سانحہ تھا، تمام سیاست دانوں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی ہیں،میں کسی پارٹی کا نام نہیں لیتا مگر ہم سب 72 سال آلہ کار بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی رہنما نے کراچی میں لاک ڈاؤن کی دھجیاں‌ اڑا دیں

انہوں نے کہا ہے کہ اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں۔ شب خون بھی مارے گئے جس کی وجہ سے جمہوریت کبھی بھی پھل پھول نہیں سکی۔ اب ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ جو آپ مفاہمت کی بات کرتے ہیں اس کے معنی صحیح نہیں ہیں۔ میں قومی مفاہمت کی بات کرتا ہوں کہ جو ہوا اس سے سبق حاصل کریں، اپنی ذاتی انا کو مٹائیں اور دن رات محنت کر کے عوام کے غموں کو، دکھوں کو خوشیوں میں بدلیں اور غربت، مہنگائی کا خاتمہ کریں۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے تاحیات سربراہ نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنے بیانیے کو دہراتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "یہ جدوجہد محض چند سیٹوں کی ہار جیت کےلیے نہیں بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لیے ہے، اور اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ کیے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لیے ہے۔ مسلم لیگ ن اور عوام کےدرمیان خلیج ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شریف برادران کے حالیہ بیانات نے پارٹی کے بیانیے اور آپس کے اختلافات کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھی قیاس آرائیاں کی جاری ہیں کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں تاکہ وہ نواز شریف کو جارحیت سے مصالحت آمیز طرز سیاست پر مائل کرسکیں۔

متعلقہ تحاریر