کمالیہ کے اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر 24 سال سے التواء کا شکار

شہریوں کا کہنا ہے ارباب اختیار خصوصی توجہ دے کر اسٹیڈیم کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرائیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایک پرسکون ذہن صحت مند جسم کا مالک ہوتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو گا جب ہم کھیلوں کی طرف راغب ہوں اور ہمیں اس سلسلہ میں سہولیات بھی میسر ہوں۔ صوبہ پنجاب کے ضلع کمالیہ میں 24 سال قبل کھیلوں کے فروغ کے لیے اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر شروع کی گئی جو تاحال التواء کا شکار ہے۔  

کمالیہ کے نوجوانوں میں کھیلوں سے محبت کے پیش نظر 24 سال قبل سٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھ کر امیدوں کو پورا کرنے کے لیے جو خواب دکھائے گئے وہ آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ن لیگ میں اختلافات، نواز مغرب جبکہ شہباز مشرق کی جانب

24 برسوں میں اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر کا سفر صرف کاغذات میں طے ہوا ہے، مگر عملی طور پر یہ اسٹیڈیم نشیئی اور آوارہ لوگوں کی پسندیدہ جگہ بن کر رہ گیا ہے، جہاں پر اہل علاقہ نہ صرف اپنے جانور چراتے ہیں بلکہ انکے چارے کا بھی مفت بندوبست کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب کمالیہ کے ہونہار کھلاڑی دوسرے شہروں میں پریکٹس کر کے اپنے شہر اور ملک کا نام روشن کرنا نہیں بھولے ہیں۔

نیوز 360 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ جب اس اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا تو ہم سب دوست بہت خوش تھے کہ اسٹیڈیم کی تعمیر سے ہمیں کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان میسر ہو گا مگر آج 24 سال بعد جبکہ ہم بوڑھے ہو چکے ہیں اس کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اسٹیڈیم کے تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرائیں تاکہ یہاں کے نوجوان بھی اپنی کھیل کی پیاس کو بجھا سکیں۔

دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اسٹیڈیم کی تعمیر تو مکمل نہ ہو سکی مگر عمارت کے درودیوار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اسٹیڈیم کا داخلی دروازہ کمزور پڑ کر ایک جانب کو جھک گیا ہے، فٹ بال کے لیے لگائے گئے پول بھی زنگ زدہ ہوگئے ہیں۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ کمالیہ التواء کے شکار اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر کو جلد مکمل کرے تاکہ نوجوان بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔

Facebook Comments Box