طالبان کے نظام انصاف کو فواد چوہدری کا چیلنج

افغان طالبان نے 2 افراد کا 3 دن میں مقدمہ چلا کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا۔

افغانستان میں طالبان نے مبینہ طور پر بچوں سے زیادتی اور اغوا کی واردات میں ملوث 2 افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین طالبان کے ان اقدام کو انصاف کی جلد فراہمی قرار دے کر پاکستان کے نظام انصاف پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے صارفین کو سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے انصاف کے بجائے قتل قرار دیا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے افغانستان میں 2 افراد کو پھانسی دینے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان نے بچوں سے زیادتی اور انہیں اغوا کرنے والے 2 ملزمان کو 3 روز کے اندر مقدمہ چلا کر سرعام پھانسی پر لٹکا دیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین طالبان کی طرف سے ملزمان کو پھانسی دینے والی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے نظام انصاف پر سوالات اٹھا رہے ہیں جبکہ چند صارفین پاکستانی حکام کو طالبان سے اسلامی ںظام سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق سفیر شفاعت شاہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ افغان طالبان نے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والوں کا 3 دن میں مقدمہ چلاکر انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔ پاکستان کی عدالتوں کو ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

افغان طالبان کو پروگرام میں مدعو کرنے پر سلیم صافی پر تنقید

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سابق سفیر کی ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ 3 دن میں فیصلے نہیں بلکہ قتل ہوتے ہیں۔ فریقین کو سنے بغیر ہی کسی بے گناہ کو پھانسی پر لٹکانا ایک گناہ گار کو سزا دینے سے زیادہ بدترین عمل ہے، انصاف توازن کا نام ہے۔ فواد چوہدری نے مزید لکھا کہ انصاف میں تاخیر کرنا انصاف سے انکار کرنا ہے لیکن انصاف دینے میں جلد بازی کرنا بھی انصاف کو کچلنے کے مترادف ہے۔

Facebook Comments Box