پشاور کی حیات آباد فوڈ اسٹریٹ سیل، دکاندار اور ملازمین خوار

پی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ تین سالہ معاہدے کے اختتام پر فوڈ اسٹریٹ کو بند کیا گیا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم واحد فوڈ اسٹریٹ کو معاہدہ ختم ہونے پر سیل کردیا گیا ہے۔ پی ڈی اے حکام کا کہنا ہے نئے معاہدے کی منظوری تک فوڈ اسٹریٹ بند رہے گی۔

حیات آباد فوڈ اسٹریٹ کو سیل کرنے پر دکانداروں کا کہنا ہے کہ شہر کے واحد مختلف کھانوں کے مرکز کو بند کرنا افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فوڈ اسٹریٹ کو سیل کیا ہے، اگر معاہدے کی مدت ختم ہو رہی تھی تو حکام بالا کو پہلے سے اطلاع دینی چاہیے تھی کہ معاہدے کی تجدید کرالی جاتی۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں پیٹرول پمپس لوٹنے والے ڈاکو چھلاوا بن گئے

دکانداروں کا کہنا تھا کہ غیرفعال فوڈ اسٹریٹ کو فوری طور پر بحال کیا جائے کیونکہ 52 دکانوں کی بندش سے درجنوں ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیا کنٹریکٹ جاری ہونے تک ہمیں کام کرنے دیا جائے تاکہ جو مزدور بےروزگار ہو گئے ہیں ان کی کمائی کا ذریعہ کھل سکے۔

دوسری جانب پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ فوڈ اسٹریٹ کے دکانداروں کے ساتھ 3 سال کا معاہدہ کیا گیا تھا جو ختم ہوگیا ہے۔

پی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ فوڈ اسٹریٹ کا کنٹریکٹ 2018 سے 2021 تک تھا۔ ہمیں دکانداروں اور ان کے ملازمین کی مشکلات کا اندازہ ہے نیا ٹھیکہ جلد جاری کر دیا جائے گا۔

ادھر کھانوں کے دلدادہ شہریوں کو کہنا ہے کہ شہر کی واحد فوڈ اسٹریٹ کی بندش سے وہ لوگ انواح و اقسام کے کھانوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ مزے دار اور لذیز کی کھانوں کی تلاش ہم اپنی فیملیز اور دوستوں کے ساتھ یہاں آکر انجوائے کرتے تھے۔ یہاں آکر ہمیں گھر جیسا ماحول محسوس ہوتا تھا ، پی ڈی اے کے حکام بالا سے درخواست کرتے ہیں کہ فوڈ اسٹریٹ کو دوبارہ فعال کردیں تاکہ ہم اپنی بھوک کو اپنے پسندیدہ کھانوں سے مٹا سکیں۔

Facebook Comments Box