قصور میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر پُلی کی تعمیر حکومتی توجہ کی منتظر

محکمہ ڈویلپمنٹ اور پلاننگ کے افسران کے مطابق فنڈز کی کمی کی وجہ سے پُلی کی تعمیر التواء کا شکار ہے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ بائی پاس بھی تعمیر کیا گیا مگر غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُلی کی تعمیر نہیں کی گئی ہے۔

واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بائی پاس پر پلی کی تعمیر نہ ہونے سے کوئی بڑا حادثہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے، جبکہ موڑ کاٹتے ہوئے جنگلا نہ ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ موٹر سائیکل سوار اور رکشے گر چکے ہیں ، مگر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ڈویلپمنٹ اور پلاننگ بالکل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اس غفلت کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

میاں نواز شریف کے لیے ایک طرف پہاڑ دوسری طرف کھائی

حکومت پنجاب کی ہدایت پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ بائی پاس بنایا گیا ہے جو درجنوں دیہاتوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ دولے والا سے گزرتا ہوا بائی پاس حسین خان والا روڈ میں شامل ہو جاتا ہے، اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اہل علاقہ نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری جانب مین دیپالپور روڈ پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قریب بائی پاس سے گزرنے کے لٸے جو پُلی تعمیر کی گئی ہے وہ انتہاٸی ناقص ہے جس کی وجہ سے اس گندے نالے میں رات کے وقت گرنے سے کئی لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سڑک اور بائی پاس بنانے پر تو کروڑوں روپے لگا دیے گئے ہیں مگر ہزاروں روپے لگا کر پلی کی تعمیر نہیں کی جارہی جو حادثات کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ڈویلپمنٹ اور پلاننگ سے ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ ڈویلپمنٹ اور پلاننگ کے افسران نے موقف لینے پر بتایا کہ فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے پُلی کی تعمیر کا کام ادھورا پڑا ہے جیسے ہی فنڈز مل جائیں گے تعمیر مکمل کردی جائے گی۔

Facebook Comments Box