غیرقانونی الاٹمنٹ ریفرنس میں میر شکیل الرحمان کے وکیل کی چالاکیاں

وکیل امجد پرویز کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سماعت ایک مہینے کے لیے ملتوی کردی۔

احتساب عدالت میں جنگ اور جیو نیوز کے مالک میر شکیل الرحمان کے خلاف غیرقانونی الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت میں ملزم کے وکیل مبینہ طور پر سُستی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس پر عدالت نے سماعت ایک مہینے کے لیے ملتوی کردی ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق کیس کے وکیل سابق صدر آصف علی زرداری کی وکلا ٹیم کی طرح کیس کو منتقی انجام تک پہنچانا نہیں چاہتے۔

احتساب عدالت لاہور کے جج اسد علی میر شکیل الرحمان کے خلاف پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔ گزشتہ روز سماعت میں نیب پراسیکیوٹرز سید فیصل رضا بخاری اور حارث قریشی پیش ہوئے جبکہ ملزم میر شکیل اپنے جونیئر وکیل کے ہمراہ عدالت میں آئے۔ ملزم کے وکیل امجد پرویز ذاتی مصروفیات کا جواز بنا کر پیش نہ ہوئے جس پر عدالت  نے سماعت 31 اگست تک ملتوی کردی۔

دوران سماعت جج اسد علی نے ملزم کے جونیئر وکیل سے مکالمہ کیا کہ انہیں پراسیکیوشن کے ساتھ ملزمان کے دلائل سن کر فیصلہ سنانا ہے اور ملزم کیخلاف پیش کیا گیا ریکارڈ بھی پڑھنا ہے لیکن سینئر وکیل عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔

میر شکیل الرحمان کے جونیئر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب پراسیکیوٹر اپنے دلائل مکمل کرلیں، امجد پرویز کل عدالت میں جوابی دلائل دے دیں گے جس پر جج اسد علی نے ریمارکس دیئے کہ ان کا آج عدالت میں آخری دن ہے، وہ پھر گرمیوں کی چھٹیوں پر جا رہے ہیں۔

جج نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کے جونیئر وکیل سے مکالمہ کیا کہ میڈیا ہائپ کے باعث یہ کیس زیادہ حساس نوعیت کا ہوگیا ہے، وہ ہوا میں فیصلہ نہیں سنانا چاہتے ہیں۔ عدالت میں وکلا کی موجودگی لازمی ہے۔

جج اسد علی نے مزید کہا کہ وہ میر شکیل الرحمان کی بریت سے متعلق کیس کا فیصلہ گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل ہی سنانا چاہتے تھے لیکن اب یہ کیس طوالت میں جارہا ہے۔ ملزم کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث معاملہ یہاں تک پہنچا ہے۔

میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز کی عدم موجودگی پر عدالت نے کہا کہ اب کیس کی سماعت موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد ہوگی۔ عدالت نے ریفرنس کی سماعت 31  اگست تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے

جیو نیوز کی اینکر میڈیا مالکان سے نالاں

دوسری جانب ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر اس ریفرنس کی سماعت میں میر شکیل الرحمان کے وکلا سستی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کے باعث کیس کی سماعت مزید ایک مہینے کے لیے تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی وکلا ٹیم بھی کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے بجائے اس میں تاخیر کرتی تھی اور اب یہ سب میر شکیل الرحمان کے خلاف ریفرنس میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

Facebook Comments Box