سندھ میں لاک ڈاؤن، صوبائی حکومت آج کیا فیصلے کرے گی؟

کراچی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرونا کیسز کی شرح 23 فیصد پر آگئی جو پابندیوں سے قبل 30 فیصد تھی۔

سندھ حکومت نے 31 جولائی سے 8 اگست تک صوبے میں نافذ کیے گئے جزوی لاک ڈاؤن کے حوالے سے آج اپنے اقدامات پر غور کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے آبادی والے شہر کراچی میں سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن نفاذ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کلفٹن ڈرائیو تھرو ویکسین سینٹر پر عوام کا رش

معاشی طور پر بدحال شہریوں کی جانب سے صوبائی حکومت کے جزوی لاک ڈاؤن کے فیصلے پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کراچی میں مثبت کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجوہات جاننے کےلیے مختلف عوامل پر غور کررہی ہے۔

سب سے بڑے آبادی والے شہر میں جب لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا تو کرونا مثبت کیسز کی شرح 30 فیصد سے زیادہ تھی جن میں زیادہ تر کیسز کی تعداد ڈیلٹا ویرئینٹ کی تھی۔

کاروباری اداروں کی بندش ، ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے پر اور بڑے اجتماعات پر پابندیوں سے ایک ہفتے میں مثبت کیسز کی شرح کم ہو کر 23 فیصد پر آگئی ہے۔

کراچی کی تاجر برادری نے حکومت کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کی مخالفت ضرور کی ہے مگر انہوں سندھ حکومت کی اپیل پر صحت عامہ کے وسیع تر مفاد میں پابندیوں پر مکمل عمل کیا ہے۔

اگر سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا وقت بڑھایا گیا تو تاجر برادری اور مزدور طبقے کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے کیونکہ کاروبار کی بندش سے ان کے گھروں کے چولہے پہلے ہی ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں کرونا کیسز کی وجہ سے اموات کا سلسلہ نہیں رک پارہا ہے۔ جمعہ کے روز کراچی میں مزید دو ڈاکٹرز جان کی بازی ہار گئے۔ جن ڈاکٹرز کی اموات کرونا سے ہوئی ہے ان میں سول اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر نثار علی شاہ اور ڈاکٹر فرزانہ میمن شامل ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا کےدارالحکومت پشاور میں بھی ڈاکٹر احسان الحق کرونا سے انتقال کرگئے ہیں۔

کرونا کی وبا کی وجہ سے اب تک سندھ میں 73 ڈاکٹروں کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ پورے پاکستان میں جاں بحق ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد 213 ہو گئی ہے۔

این سی او سی اور سندھ حکومت کی بار بار کی اپیل کے باوجود شہریوں کی جانب سے کرونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے نیوز 360 نے جب ڈاکٹرز سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کی اصل وجہ شہریوں کی جانب سے ایس او پیز کو نظرانداز کیا جانا ہے ، شہری ماسک کا استعمال نہ ہونے کے برابر کررہے ہیں۔ اگر شہری ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کریں گے تو کیسز میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

این سی او سی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4ہزار 720 کرونا کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ملک بھر میں کرونا سے متاثرہ 95 افراد جاں کی بازی ہار گئے ہیں۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 8.24 فیصد رہی ہے۔

 

Facebook Comments Box