نیب افسر کی اہلیہ کا تشدد، متاثرہ بچی کی پریس کلب میں دہائی

مناحل سرفراز کا کہنا ہے کہ میں عمران خان سے اپیل کرتی ہوں کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

ایبٹ آباد کی رہائشی 8 سالہ بچی مناحل سرفراز نے نیب افسر غلام مجتبیٰ اعوان کی اہلیہ کی جانب سے مبینہ تشدد کرنے پر سکھر پریس کلب میں تحفظ اور انصاف کے لیے دہائی دی ہے۔ متاثرہ بچی کاکہنا ہے کہ باجی (مالکن) نے میرا گلا دبا کر مجھے مارنے کی کوشش کی تھی۔

سکھر پریس کلب میں بات چیت کرتے ہوئے متاثرہ بچی نے بتایا ہے کہ میں جن کے ہاں کام کرتی ہوں ان کا نام مومنا علی ہیں۔ ان کے بیٹے کا نام حسن مجتبیٰ ہے۔ اگر مجھ سے کوئی کام غلط ہو جاتا تھا تو مجھ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور اگر اُن کے بیٹے سے بھی کوئی نقصان ہو جاتا تھا تو اس کی سزا بھی مجھے دی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ سیاسی ہے؟

مناحل سرفراز کا کہنا تھا کہ میں رات کو 2 بجے سوتی تھی اور صبح 6 بجے اٹھ جاتی تھی، باجی مجھے کہتی تھیں کہ تم نے دو منٹ بھی فارغ نہیں بیٹھنا ہے۔ مجھے ان لوگوں نے 4 ہزار روپے میں رکھا تھا اب پتا نہیں کہ یہ لوگ میری مما کو پیسے بھیجتے ہیں یا نہیں۔ پچھلے مہینے میری مما کا فون آیا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ تنخواہ نہیں ملی ہے۔ باجی کہہ رہی تھیں کہ اب کبھی بھی تنخواہ نہیں بھیجوں گی۔

متاثرہ بچی کا کہنا تھا کہ میرے بابا نے تین شادیاں کر رکھی ہیں مجھے پتا نہیں میری مما کون ہیں کیونکہ میں ایبٹ آباد میں اپنی دوسری مما کے پاس رہتی تھی ، میرے چاچو مجھے میری باجی (مومنہ علی) کی مما کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ مجھے ایک سال ہو گیا ہے ان کے پاس کام کرتے ہوئے اور میں ایک سال سے اپنے گھر بھی نہیں گئی ہوں۔

نیب افسر کی اہلیہ کے مبینہ تشدد سے متاثرہ بچی کا مزید کہنا تھا کہ میں باجی اور ان کے بیٹے کا ہر کام دل سے کرتی تھی ، حسن مجتبیٰ کو ناشتہ میں کراتی تھی اسے کپڑے میں پہناتی تھی ، تاہم میں اب واپس نہیں جانا چاہتی۔ میری عمران خان سے اپیل ہے کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ میرا کوئی بھی نہیں ہے۔

Facebook Comments Box