کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ

جولائی میں شہریوں کو 4080 موٹر سائیکلز اور2091 موبائل فونز سے محروم کیا گیا۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانا پولیس کے لیے دردِ سر بن گیا۔ نت نئی حکمت عملیاں بھی کام نہ آئیں۔ اسٹریٹ کرائمز ناسور کی شکل اختیار کرنے لگے۔ 7 ماہ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت 11 ہزار 570 وارداتیں زیادہ رپورٹ ہوئی ہیں۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کی تمام تدابیر ناکام دکھائی دینے لگیں۔ پولیس، رینجرز اور صوبائی حکومت مل کر بھی اسٹریٹ کرائم کے گراف کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ سی پی ایل سی کے تازہ اعداد وشمار نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔

کراچی میں پچھلے سات ماہ میں وارداتیں 43 ہزار سے تجاوز کر گئیں جبکہ گذشتہ برس سات ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائمز کی 31 ہزار 527 وارداتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔ اس طرح 7 ماہ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت 11 ہزار 570 وارداتیں زیادہ رپورٹ ہوئی ہیں۔ سی پی ایل سی کے تازہ اور گذشتہ برس کے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ بتاتا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت اسٹریٹ کرائم کی شرح میں رواں برس  مجموعی طور پر 37 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

نیب افسر کی اہلیہ کا تشدد، متاثرہ بچی کی پریس کلب میں دہائی

رواں سال سات ماہ میں کراچی سے 27 ہزار 40 موٹر سائیکلز چوری اور اسلحے کے زور پر ڈھائی ہزار سے زائد چھین لی گئیں۔ رواں سال شہریوں کو ایک ہزار اناسی گاڑیوں اور 12ہزار 471 موبائل فونز سے  بھی محروم کردیا گیا۔

اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ سال 2020 کے مقابلے میں رواں سال موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔ موٹر سائیکل کی چوری پچاس فیصد، گاڑیوں کی چوری 14 فیصد اور موبائل فون چھیننے کی شرح 10 فیصد  بڑھ گئی۔

گزشتہ برس کے سات ماہ میں کراچی والوں سے 11ہزار 308 موبائل فونز،19ہزار 259 موٹرسائیکلیں  اور 960 گاڑیاں چوری اور چھین لی گئی تھیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق صرف ماہ جولائی میں کراچی کے شہریوں کو 4080 موٹر سائیکلز اور2091 موبائل فونز سے محروم کیا گیا۔

جولائی 2021 میں شہریوں کی 160 گاڑیاں چور لے اڑے جبکہ بھتہ خوری کی بھی 3 وارداتیں سامنے آئیں۔ شہر میں قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ ماہ جولائی کے دوران 42 افراد کی زندگی کے چراغ گل کردیے گئے۔

Facebook Comments Box