جشن آزادی پر قومی پرچم کے وقار کی بلندی کے لیے خصوصی اقدامات

عدالتی حکم کے مطابق قومی پرچم کی حرمت کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

ملک بھر میں آج جشن آزادی قومی جوش وجذبے سے منایا جارہا ہے۔عدالتی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جشن آزادی پر قومی پرچم کو نیچے گرنے سے بچانے اور اسے صاف جگہ پر لہرانے کے بھی خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں اسٹالز پر قومی پرچم کی فروخت کے حوالے سے نیوز 360 کے رپورٹرز نے شہریوں سے گفتگو بھی کی۔

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں نوجوان قومی پرچم اٹھائے ریلیاں نکال رہے ہیں، سبز پرچم کو بلند رکھنے کے اس عزم میں خواتین اور معصوم بچے بھی پیش پیش ہیں جو 1947 میں مسلمانوں کی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

‎ملک بھر میں لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عین عدالتی فیصلے کے مطابق قومی پرچم میں گہرا سبز حصہ تین چوتھائی اور سفید حصہ ایک چوتھائی رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ انتظامیہ کی طرف سے قومی پرچم کو دیگر رنگوں، بدنما پورٹریٹ یا کارٹون میں چھاپنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں۔

یہ  بھی پڑھیے

افغان صورتحال پر پاکستان کو ایک اور سفارتی چیلنج درپیش

‎عدالتی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جشن آزادی پر قومی پرچم کو نیچے گرنے سے بچانے اور اسے صاف جگہ پر لہرانے کے بھی خاص انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ کسی طرح بھی پرچم کی بے حرمتی نہ ہو۔ اس مرتبہ مختلف لباس پر قومی پرچم چھاپنے والوں کو بھی اس عمل سے روکنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

‎واضح رہے کہ 7 اگست کو لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے شہری سدرہ سحر کی درخواست پر قومی پرچم کو سبز رنگ کے بجائے دیگر رنگوں میں چھاپنے اور کاغذ پر قومی پرچم کی جھنڈیاں بنانے کیخلاف درخواست پر فیصلہ جاری کیا تھا۔

‎عدالت نے گہرے ہرے رنگ کے بجائے مختلف رنگوں اور شرٹس پر قومی پرچم کی چھپائی کو قومی وقار کے خلاف قرار دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے والوں کو 3 سال تک سزا سنائی جاسکتی ہے۔

Facebook Comments Box