افغانستان حکومت کے الزامات کے جواب میں وفاقی وزراء یک زبان

امراللہ صالح کو جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا ہے افغانستان اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالے۔

افغانستان حکومت کی جانب سے پاکستان پر مداخلت کے الزامات کے بعد وفاقی وزراء اور مشیران نے یک زبان ہوتے ہوئے اپنا جوابی بیانیہ دینا شروع کر دیا ہے۔

افغانستان کے سینئر نائب صدر امراللہ صالح کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مفلس ماں بچوں سمیت پل کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور

بھارت کے زیرصدارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں افغان سفارتکار نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمے دار پاکستان کو قرار دتیے ہوئے پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی طرح افغانستان کے سینئر نائب صدر امراللہ صالح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ “ہم اس مشکل سے جلد نکل آئیں گے اور پاکستان کو بھرپور جواب دیں گے۔”

وفاقی وزراء اور حکومتی ترجمانوں نے طالبان کی حمایت کے افغان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں کسی گروپ یا گروہ کی حمایت نہیں کررہا ہے ، افغان حکام کے الزامات حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متعدد مرتبہ ان اندرونی اور بیرونی عناصر کی نشاندہی کی ہے جو افغانستان کے امن کے در پر ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہم نے افغان ہم منصب کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے تاکہ جو خدشات ہیں ان کا حل گفتگو سے نکالا جاسکے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان 11 اگست کو دوحہ میں ہونے والی سہ فریقی میٹنگ کا منتظر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے ایک کانفرنس میں افغان رہنماؤں کو “مائنس طالبان” کو بھی مدعو کیا تھا تاکہ آگے کے راستے پر بات کی جا سکے۔ ، تاہم افغان صدر اشرف غنی کی درخواست پر وہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی تھی۔

افغان حکام کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ “پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم تنازعات سے کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کابل حکومت کی ذمے داری کہ وہ بارڈر پار سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو روکے۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ امراللہ صالح جیسے لوگ کیا کررہے ہیں۔”

وفاقی وزیر حماد اظہر نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پاکستان افغانستان کی جانب سے دراندازی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اے این ایس ایف ہتھیار ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر جنگ کا میدان چھوڑ رہے ہیں۔ افغان حکومت اپنی ناکامیوں کی خود ذمے دار ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔”

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور شہباز گل نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “طالبان افغانستان کے 60 فیصد پر قابض ہو گئے ہیں مگر افغان حکومت ان کے خلاف لڑنےکی بجائے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر افغان فوجی ہتھیار ڈال رہے اور روزانہ کی بنیاد پر پاکستان پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ لڑو! پروپیگنڈا نہ کرو۔”

گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ پاکستان میں جو بھی دہشتگردی ہو رہی ہے اس کو افغانستان سے اسپانسر کیا جارہا ہے۔ جس کی موجودہ مثال داسو میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کے بیٹی کے مبینہ اغواء کا معاملہ بھی اپنی موت آپ مرگیا ہے۔ نہ تو وہ تحقیقات میں خود پیش ہوئیں اور نہ انہوں نے کوئی ثبوت پیش کیے ہیں۔

واضح رہے کہ کل ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر نونگ زونگ نے ملاقات کی تھی، جس میں علاقائی صورتحال ، افغانستان کی صورتحال اور سی پیک کی سیکیورٹی کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ملاقات مین اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ گیم چینجر منصوبے کو کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔

Facebook Comments Box