خدیجہ صدیقی کی زندگی ایک مرتبہ پھر خطرات کی زد میں

وکیل حسان نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے خدیجہ کی گاڑی پر فائرنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتے کے روز لاہور میں بیرسٹر خدیجہ صدیقی کی کار پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے۔ گولی بونٹ میں پیوست ہوگئی تاہم اس حملے میں خدیجہ صدیقی محفوظ رہی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ’تقریباً 7 بجے کے قریب میری گاڑی کے بونٹ پر فائرنگ کی گئی جو گھر کے اندر کھڑی تھی۔ میں اس وقت گھر پر اکیلی تھی۔ میں سمجھتی ہوں یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے واضح خطرے کا پیغام ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

خدیجہ صدیقی اور جامی کے عدالتی اور انتظامی امور پر سوالات

پولیس کو تحریری درخواست دیتے ہوئے بیرسٹر خدیجہ صدیقی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ‘میں گھر پر اکیلی تھی جب مجھے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ جب گھر سے باہر گئی تو میں نے دیکھا کہ گاڑی کے بونٹ میں گولی پیوست تھی۔’

انہوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ مجھے سیکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ میری زندگی کو بعض عناصر سے خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے پولیس سے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

بیرسٹر خدیجہ صدیقی کے وکیل حسان نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ‘خدیجہ صدیقی کے والد کی گاڑی پر گولی چلائی گئی ہے۔ الحمداللہ خدیجہ محفوظ ہیں، میری ان سے بات ہوئی ہے وہ خوفزدہ نہیں ہیں، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط لگی ہیں۔’

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب اور ڈی آئی جی (آپریشنز) لاہور نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری اور حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ حکومتی اداروں کی نااہلی ہے کہ جو اب تک ایک خاتون کو سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکے۔ ان کا کہنا ہے فائرنگ کرنے والے کو مکمل معلومات تھیں کہ خدیجہ صدیقی گھر پر اکیلی ہیں۔ اگر مزید دیر کی گئی تو کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔

خدیجہ صدیقی کے کار پر فائرنگ پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ بشرٰی انصاری نے انسٹاگرام پر لکھا ہے کہ ‘اب اور کچھ دیکھنا ہے ہم نے؟ حکام برائے مہربانی جاگ جائیں۔’

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra)

واضح رہے کہ 2016 میں ایل ایل بی کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو اس کے کلاس فیلو مجرم شاہ حسین نے شادی سے انکار پر پے در پے 23 وار کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔ 29 جولائی 2017 میں تحقیقات مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے مجرم شاہ حسین کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم شاہ حسین کے والدین کی اپیل پر عدالت نے سزا میں دو سال کی کمی کرتے ہوئے 5 سال کردی تھی، تاہم جون 2018 میں لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نے سزا ختم کرکے مجرم شاہ حسین کو بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ جس پر احتجاج کرتے ہوئے بیرسٹر خدیجہ صدیقی نے پاکستان کے نظام انصاف پر سوالات اٹھا دیے تھے۔

Facebook Comments Box