ڈی ایس پی آفس میں دعا چوہدری پر پولیس کے مبینہ تشدد کی ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے جب تک پولیس اور تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہوگا مظلوم لوگوں پر تشدد فروغ پاتا رہے گا۔

لاہور کی اسٹیج اداکارہ دعا چوہدری پر ڈی ایس پی اچھرہ کے آفس میں مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیو سامنے آگئی ہے۔ اداکارہ نے تھانہ اچھرہ میں انصاف کے لیے درخواست دے دی ہے۔

دعا چوہدری کے مطابق میرے سابقہ شوہر سلیمان شوکت نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے میرا حمل ضائع ہو گیا تھا۔ سلیمان شوکت ایس ایچ او مناواں کا بھائی ہے۔ گزشتہ دنوں ڈی ایس پی سہیل کاظمی نے صبح دس بجے مجھے داد رسی کےلیے اپنے آفس میں طلب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب کے اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی رینکنگ جاری

دعا چوہدری کے مطابق جب میں ڈی ایس پی کے آفس پہنچی تو ایس ایچ او مناواں سلیم شوکت ، سابقہ شوہر سلیمان شوکت ، ایس ایچ او اچھرہ یاسر عباس گجر ، اے ایس آئی اصغر اور 8 سے 10 نامعلوم افراد نے لائٹ بند کر کے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا ، میرے کپڑے پھاڑ دیے اور غلیظ گالیاں دی گئیں۔

اداکارہ نے سابق شوہر سمیت دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواست دے دی ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ میری شادی سلیمان شوکت سے 3 سال قبل ہوئی تھی۔ میں جہیز میں 14 لاکھ روپے کا سامان لائی تھی۔ سلیمان شوکت کا جب  دل بھر گیا تو مجھ سے مارپیٹ شروع کردی جس سے میرا حمل بھی ضائع ہو گیا تھا۔

دوسری جانب اداکارہ کے سابق شوہر سلیمان شوکت کا کہنا ہے کہ میں ایک سافٹ ویئر انجینیئر ہوں مجھ پر تشدد کا الزام سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ، اداکارہ دعا شادی کی آڑ میں مجھ سے لاکھوں روپے بٹور چکی ہیں۔

ادھر ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کھوسہ کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی اچھرہ سہیل کاظمی کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات دے دی گئی ہیں، تحقیقات کے بعد ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پولیس اور تھانہ کلچر جب تک تبدیل نہیں ہوگا اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت متعدد مرتبہ تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے دعوے کرچکی ہے مگر عملی طور پر اس کی جھلک کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ادارے کی ذمے داری معاشرے کی اصلاح کرنا ہے وہی ادارے سب سے پہلے اصلاح کا متقاضی ہے۔

Facebook Comments Box