20 کروڑ سے زائد رقم لے کر فرار ہونے والا ڈرائیور تاحال لاپتہ

پولیس کو شبہ ہے کہ حسین شاہ کسی کالعدم تنظیم کا کارندہ ہوسکتا ہے۔

زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا؟ کراچی میں کیش وین سے 20 کروڑ 50 لاکھ روپے لے کر فرار ہونے والا ڈرائیور چھلاوا بن گیا۔ 8 روز گزر گئے لیکن پولیس تاحال ملزم اور اس کے گروپ کو پکڑنے میں ناکام ہے۔ ڈرائیور کے موبائل فون پولیس کے ہاتھ آگئے۔

کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پر  پچھلے دنوں دن دہاڑے ڈکیتی کی اب تک کی سب سے بڑی واردات رونما ہوئی۔ ڈرائیور کیش وین میں موجود 20 کروڑ 50 لاکھ سے زائد رقم لے کر فرار ہوگیا تھا جسے پولیس تاحال گرفتارکرنے میں ناکام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ واردات میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم حسین شاہ کا آبائی تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور شبہ ہے کہ حسین شاہ کسی کالعدم تنظیم کا کارندہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول

ڈرائیور کے پولیس تصدیقی سرٹیفکیٹ پر تھانیدار کے جعلی دستخط ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے 2موبائل فون مائی کلاچی روڈ پر پھینک دئیے تھے جو تحویل میں لے لئے گئے ہیں۔

دوسری جانب 4 اگست کو تیموریہ کے علاقے میں نامعلوم ملزمان نے نجی کمپنی کی کیش وین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 2 افراد کو ہلاک اور ایک شخص کو شدید زخمی کرکے ساڑھے 9 لاکھ روپے لوٹ لیے تھے۔

پولیس 13 روز گزر جانے کے باوجود ڈکیتی میں ملوث گروہ کے کارندوں کا سراغ لگانے میں ناکام ہے۔ تفتیشی افسران کا دعویٰ ہے کہ چند شواہد ملے ہیں جن پر کام جاری ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

Facebook Comments Box