مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ بھی بیمار ذہنیت کا شکار

رنجیت سنگھ کا مجسمہ پہلے بھی 2 مرتبہ توڑا جاچکا ہے۔

لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان  کے  نوجوان نے شاہی قلعے میں نصب برصغیر کی تاریخی شخصیت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑ دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پنجاب میں تاریخی شخصیات کے مجسموں کو نقصان پہنچانے کا  یہ  کوئی  پہلا  واقعہ  نہیں  ہے۔

لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ  کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان رضوان سیرو  تفریح کے لیے  شاہی قلعے میں گیا جہاں اس نے رنجیت سنگھ کے مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑ  دیا۔ پولیس نے موقعے پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا۔  شیر پنجاب رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو  معاملہ  سامنے  آیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Dawn Today (@dawn.today)

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے ملزم کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیمار ذہنیت کی علامات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سمیع اللہ کا مجسمہ، وہی ہوا جو ملک میں ہاکی کے ساتھ ہوا

یہاں  یہ  بات  قابل  ذکر  ہے  کہ  2019 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 180 ویں برسی پر شاہی قلعے میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو 2 مرتبہ پہلے بھی توڑا گیا تھا  جسے مرمت کے بعد دوبارہ نصب کیا گیا تھا۔

پنجاب میں کسی اہم  شخصیت کے مجسمے کو توڑنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہاولپور میں اولمپیئن سمیع اللہ کے مجسمے کی بھی  بے حرمتی کی گئی تھی۔  قومی  ہیرو کے مجسمہ سے ہاکی اور بال کو چوری کرلیا گیا تھا۔

پنجاب میں تاریخی شخصیات کے مجسموں کو توڑنے اور ان کی بے حرمتی کے بڑھتے واقعات پر مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والی  شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ  ہم اپنے ہیروز کی توہین کرکے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں تاریخی عمارتوں اور شخصیات کے مجسموں کو مسمار کرنے کا خدشہ تھا لیکن یہ حیران  کن  طور  پر  یہ  سب کچھ  پاکستان میں ہوتا نظر آرہا ہے۔

Facebook Comments Box