خواتین پر جنسی تشدد، قانون سازوں ، عدلیہ اور عوام کی نظر میں

یوم آزادی کے روز پیش آنے والے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے عوام نے ذمے داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

14 اگست کے روز مینار پاکستان کے سامنے 400 افراد کی جانب سے عائشہ اکرم نامی خاتون کو سرعام ہراساں کیا گیا تھا جس پر عوام کی جانب سے غم و غصے کا مسلسل اظہار کیا جارہا ہے، تاہم سینیٹر میاں عتیق نے اس سارے واقعے پر پاکستانی معاشرے کو قصور وار ٹھہرانے پر اعتراض کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سینیٹر میاں عتیق نے لکھا ہے کہ “ٹک ٹاکروں کی باجی ننگا ڈانس کرے مینار پاکستان پر، اس ٹک ٹاکر آنٹی کی بغیر میک اپ والی تصویر دیکھ کر مجھے اس کے 400 ترسے ہوئے تماشبینوں پر اور بھی غصہ آ رہا ہے۔ انی دیو بچیو فٹے منہ تواڈی چوائیس تے۔”

یہ بھی پڑھیے

بجلی اور پیٹرول کے بعد گیس بھی مہنگی

لڑکی لڑکے کے ناجائز تعلقات اور نور مقدم قتل کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر میاں عتیق نے لکھا ہے کہ “لڑکی لڑکے کو ناجائز ملنے جاتی ہے ۔عثمان مرزا ویڈیو بناتا ہے ۔ قصور پاکستان اور معاشرے کا۔””نور مقدم کا ظاہر جعفر سے ناجائز تعلق تھا۔ کتے کی موت ماری گئی۔ قصور پاکستان اور معاشرے کا۔”

 

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر میاں عتیق کا نقطہ نظر بالکل درست ہے کیونکہ ہر شخص اپنا عمل کرنے میں آزاد ہے اگر اس کا کوئی ردعمل آتا ہے تو اس میں معاشرے یا پاکستان کا قصور کہاں سے آگیا۔

اگر ہم عائشہ اکرم ، نور مقدم اور عثمان مرزا کیس کے تناظر سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس دیکھیں تو بہت سارا قذیہ صاف ہو جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ “ایک خاتون کا جسمانی کردار اور ساکھ کچھ بھی ہو اس کو تحفظ فراہم کرنا قانون کی ذمہ داری ہے، کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس خاتون کے کردار اور ساکھ پر رائے زنی کرے۔”

مینار پاکستان عائشہ اکرم

مینار پاکستان کے سامنے ہونے والے دست درازی کے واقعے پر نیوز 360 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے گوجرانوالہ سے آئی ہوئی خاتون کا کہنا تھا کہ “اگر کوئی خاتون مینار پاکستان پر اکیلے بھی آئی ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر سوشل میڈیا پر جو کچھ ہم نے دیکھا اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سارے واقعے میں خاتون کی مرضی تھی تو وہ اتنے بڑے مجمے میں چلی گئی مجھے کوئی کیوں نہیں لے جارہا۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ انعام نامی شخص کا کہنا تھا کہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ واقعی ہی شرم ناک تھا۔ ان کا کہناہے کہ ذمے داروں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے اور انصاف ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہیے۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے ایک جوڑے کا کہنا تھا کہ “ایسے موقعوں پر خواتین کو بہت احتیاط کرکے آنا چاہیے، کیونکہ ایسے موقعوں پر بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ اپنی فیملیز کے ساتھ آنا چاہیے تاکہ کوئی غیر اخلاقی واقعہ پیش نہ آجائے۔”

کراچی سے لاہور آئے ہوئے ایک صاحب کا نیوز 360 سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ “اگر اس تاریخی مقام پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات ہوں گے تو پھر ہمارا یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب کوئی ہم سے سوال کرتا ہے کہ تمہارے پاکستان میں ایسا کیسے ہوا تو ہمارا لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔”

ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ” وہ خاتون جو کوئی بھی تھی اگر ٹک ٹاکر تھی تو اس کو اس قدر نمائش نہیں کرنی چاہیے تھی۔ تاہم پھر بھی کسی کو حق نہیں ہے کہ کوئی اس کے ساتھ بدتمیزی کرے، کیونکہ کل کو یہ واقعہ آپ کی ماں بہن کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔”

نواحی علاقے نور سے آئے ہوئے ایک صاحب کا کہنا تھا کہ “ابھی تک ہماری قوم کو اس بات کا شعور ہی نہیں آیا کہ ہم 14 اگست کیوں مناتے ہیں۔ جہاں تک اس واقعے کا تعلق ہے تو ایک بہت ہی غیرمہذب واقعہ تھا اور پتا چلتا ہے کہ ہماری قوم ابھی تک جاہل ہے۔”

تاہم سوشل میڈیا صارفین کا کہناہے کہ اگر ہم کو ترقی یافتہ قوموں میں اپنے آپ کو شمار کرانا ہے تو ہمیں اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہوگی اور بیمار ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔

Facebook Comments Box