معید پیرزادہ انتہاپسند سوچ کے حامل افراد کو سامنے لے آئے

سینئر صحافی کی ٹوئٹ کو سمجھے بغیر اینکر پرسن نے تنقید شروع کردی۔

پاکستان کے نامور صحافی اور تجزیہ نگار معید پیرزادہ کی افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور پاکستانیوں کے ان کے نظریات پر چلنے سے متعلق کی گئی پوسٹ نے دائیں اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے لوگوں کی پول کھول دی ہے۔

معید پیرزادہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ افغان طالبان نے ایمان اور اللہ کی مدد سے امریکا کو شکست دی ہے۔ افغانستان میں شریعت کا نفاذ انہیں مزید بااختیار بنائے گا۔ انہوں نے ایک عوامی پول کرواتے ہوئے لکھا کہ ہمیں بھی کامیاب ہونے کے لیے شریعت کے ساتھ طالبان کی طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا۔ طالبان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے ہمیں پہلے مرحلے میں پاکستانی خواتین کو حجاب پہنوانا شروع کرنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ طاقتور بن سکیں۔

نامور صحافی کی طنزیہ پوسٹ کو سمجھنے کے بجائے جیونیوز کے اینکر عبداللہ سلطان نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی شریعت خواتین کے حجاب پہننے سے شروع ہوتی ہے۔ عبداللہ سلطان کے ردعمل پر ہم ٹی وی کی میزبان شفا یوسفزئی میدان میں آگئیں۔ معید پیرزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ملک میں لوگوں کی سوچ اتنی بڑی نہیں کہ وہ آپ کی گہری بات کو سمجھ سکیں۔

عبداللہ سلطان ردعمل

یہ بھی پڑھیے

تازہ افغان تصادم میں پہلے صحافی کی ہلاکت

ایک طرف جہاں کچھ صارفین نے معید پیرزادہ کی بات کو سمجھے بغیر ہی انہیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ صارفین پاکستان میں شریعت کے نفاذ اور خواتین کے حجاب والی بات کو سراہتے رہے۔

اپنی ایک اور ٹوئٹ میں معید پیرزادہ نے لکھا کہ چونکہ ہمارے یہاں طنز کو نہیں سمجھا جاتا، اس لیے انہیں آسان الفاظ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پول نے غلط فہمی پیدا کی کہ طالبان کیوں جیتے اور امریکا کیوں ہارا؟ یہ غلط معلومات انہوں نے نہیں پھیلائی، یہ بات سیکڑوں اردو ویب سائٹس اور بلاگرز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پہلے سے ہی موجود ہے۔

معید پیرزادہ نے مزید کہا کہ اردو کالم نگاروں، ویب سائٹس اور بلاگرز نے ہم میں سے اکثریت کو یہ یقین دلایا ہے کہ طالبان نے خدائی مدد اور ایمان کی وجہ سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ معید پیرزادہ کی یہ سوشل میڈیا پوسٹ پاکستان میں انتہا پسند نظریات کے حامل افراد کو سامنے لے آئی ہے۔

Facebook Comments Box