فواد چوہدری نے میڈیا مالکان کو پاکستان کا ”کالیا“ قرار دے دیا

میڈیا سیٹھ اپنی تنظیمیں بنوالیتے ہیں جو صحافیوں کے بجائے ان کے مفادات پر کام کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پاکستانی میڈیا مالکان کو بھارتی فلم کالیا کے کردار سے تشبیہ دے دی۔ کہا میڈیا مالکان نے اپنی ہی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں جو صحافیوں کے حقوق کے بجائے مالکان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔

اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا مالکان کو دیکھ کر انہیں پرانی بھارتی فلم “کالیا” یاد آجاتی ہے جس میں سیٹھ فیکٹری میں اپنی ہی یونین بنا لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اکثر صحافتی تنظیمیں میڈیا مالکان نے بنائی ہوئی ہیں۔ پی ایف یو جے پروفیشنلز کو چھوڑ کر دیگر تمام صحافتی تنظیمیں میڈیا مالکان نے بنائی ہیں۔ بدقسمتی سے نام نہاد صحافی لیڈر صحافیوں اور ورکرز کے بجائے ہر بار میڈیا مالکان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے دو ماہ کے دوران میڈیا ہاؤسز کو 70 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں لیکن میڈیا ہاؤسز نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نہیں دیں۔ مالکان حکومت سے تو پیسے لے لیتے ہیں مگر ورکرز کو دینے کے بجائے رقم ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ملک میں بڑے میڈیا گروپس اپنے اکاؤنٹ کی تفصیلات دینے کو تیار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر شخص دیکھ سکے کہ میڈیا ہاؤسز کی آمدن کے ذرائع کیا ہیں اور کہاں اخراجات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں سالانہ رپورٹس بھی جمع نہیں کرواتے۔

یہ بھی پڑھیے

میڈیا ورکرز کے لیے خوشخبری، پرانی تنخواہیں بحال

وفاقی وزیر نے پیش کش کی کہ وہ جعلی خبروں کے سدباب اور صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے علاوہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بل کے مجوزہ قانون بدلنے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں اور صحافیوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے تباہ کن پالیسیاں رکھیں تاکہ اپنے لوگوں کو نوازا جا سکے۔ ٹی وی چینل بھی ان کو دیے جن کے پاس اخبارات تھے۔ اسی طرح انڈسٹریلسٹ کو ہی بینک دے دیے گئے۔ دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتا کہ انڈسٹری لسٹس بینک چلائیں اوراپنی ہی انڈسٹری کو قرضہ دیں، ملک اس طرح نہیں چلتے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ ڈیڑھ سے دھائی ماہ میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بل منظور کرلیا جائے گا۔ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دینے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ کوشش ہے کہ میڈیا کمیشن میں تقرریاں 50 فیصد حکومت اور پچاس فیصد میڈیا کے نمائندوں سے ہوں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا جس میں مجوزہ نئی میڈیا باڈی کے قیام کا بل پیش کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فواد چوہدری بل پر وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیں گے۔

Facebook Comments Box