سپریم کورٹ اور نادرا کا حکومت مخالف صحافیوں کو واضح پیغام

سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار پر صدر ایس سی بی اے اور وائس چیئرمین پی بی سی کے دلائل بھی سنے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 رکنی بینچ نے جمعرات کے روز فیصلہ دیا ہے کہ کسی بھی معاملے پر سوموٹو (ازخود نوٹس) لینے کا اختیار صرف چیف چسٹس کو ہوگا، دوسری جانب چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ مختلف صحافیوں پر حملے کرنے والے ملزمان کی شناخت ویڈیوز اور فنگر پرنٹس سے ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

20 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صحافیوں پر سرکاری عہدے داروں کی جانب سے تشدد کیس کی سماعت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سلیم صافی ملکی مفادات سے زیادہ طالبان کے حامی

جبکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی تھی جس کی سربراہی قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی تھی۔ بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی معاملے پر ازخود نوٹس کا اختیار صرف چیف جسٹس کو ہوگا، تاہم اگر کسی معاملے پر نوٹس لینا مقصود بھی ہو گا تو چیف جسٹس کو آگاہ کرنا لازمی ہوگا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے اس قانونی سوال پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کے تحت ازخود نوٹس کا دائرہ کن کے اختیار آتا ہے۔

بینچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر لطیف آفریدی اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوش دل خان کے دلائل بھی سنے تھے۔

ایس سی بی اے کے صدر لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو منقسم طریقے سے کام نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں میں ایک مضبوط تاثر ہے کہ عدلیہ میں تقسیم نہیں ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے جمعرات کے روز ہی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں صحافیوں پر حملے کرنے والے مجرموں کی شناخت ویڈیوز اور فنگر پرنٹس سے ممکن نہیں ہو سکی۔

پاکستان کے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے چیئرمین نادرا طارق ملک پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ کی ہمدردی کا شکریہ”

Facebook Comments Box