سندھ میں تعلیمی ادارے بند لیکن سیاسی سرگرمیاں عروج پر

بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ٹھٹہ اور بدین کے موقع پر کرونا ایس او پیز کی شدید خلاف ورزیاں کی گئیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ٹھٹہ اور بدین کے موقع پر کرونا ایس او پیز کی شدید خلاف ورزیاں کی گئیں۔ کارکنوں کی جانب سے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر سندھ کے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں تعلیمی ادارے بند کرکے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 5 روزہ سندھ کے دورے پر ہیں جہاں وہ مختلف شہروں میں کارکنوں سے خطاب کریں گے۔ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری بڑی تعداد میں کارکنوں کے ہمراہ ٹھٹہ پہنچے جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ٹھٹھہ اور بدین کے موقع پر کرونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑادی گئیں۔ بلاول بھٹو زرداری شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر بنائے گئے ہیلی پیڈ سے شہر تک ریلی کی صورت میں پہنچے۔ اس موقع پر نہ تو سماجی فاصلے کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی ماسک لگائے گئے۔
کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیاسی و سماجی اور شہری حلقوں کی جانب سے پیپلزپارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نصرت سحر عباسی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ لگتا ہے بلاول کے آنے سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے کرونا کو اسکولوں میں قید کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کے ارد گرد کھڑے کارکنوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہاں کرونا وائرس موجود ہے۔

یہ  بھی  پڑھیے

رنچھوڑ لائن کی جمیلہ بی بی ہمت، بہادری اور ایمانداری کا پیکر

سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے نام پر پیپلزپارٹی نے سندھ بھر میں تعلیمی ادارے بند کروادیے ہیں لیکن انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کرونا کے خوف کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی ادارے بند ہیں تاہم سیاسی و مذہبی اجتماعات پوری آب و تاب سے جاری ہیں۔ سندھ حکومت کرونا کا بہانہ بناکر پی ڈی ایم کو کراچی میں جلسے کی اجازت دینے سے شش وپنج کا مظاہرہ کررہی تھی مگر خود چیئرمین پیپلزپارٹی نے اندرون سندھ کا دورہ کرکے حکومت کو ہزیمت میں مبتلا کردیا ہے۔

Facebook Comments Box