پاکستان پیپلز پارٹی کا عوامی سطح پر پی ڈی ایم کو جواب

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں کھلی کچہری کا اہتمام کیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹنڈوالہٰ یار میں جلسہ عام سے خطاب کیا۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ایک طویل وقفے کے بعد کراچی میں پاور شو کیا جو اتحاد میں شامل جماعتوں کی توقعات کے برخلاف ناکام رہا، تاہم یہ جلسہ حکومت کے خلاف کم اور پیپلزپارٹی کے خلاف زیادہ تھا۔

پی ڈی ایم نے حکومت مخالف تحریک کا آغاز ایک مرتبہ پھر کراچی کے باغ جناح سے کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا یہ جلسہ پی ٹی آئی کی حکومت کی تین سالہ کارکردگی کے چند روز بعد منعقد ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایم ڈی اے مخالف صحافتی تنظیمیں؛ کیا صدارت اتفاقیہ ہی جنگ گروپ کے ہاتھ میں ہے؟

پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے موجودہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر کھل کر تنقید کی۔ رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کو ہدف نشانہ بنایا۔

کراچی میں ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے میں رہنماؤں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر بھی تنقید کے تیر چلائے جو پہلے اتحاد کا حصہ تھی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے ممالک مسلسل ترقی کررہے ہیں جبکہ پاکستان کی ترقی کو بریک لگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے تین سالوں میں ملک کو غیر محفوظ بنا دیا ہے ، ایسی صورتحال میں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت پی ڈی ایم کے کمر میں چھرا گھونپا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارچ 2019 میں عمران خان نے سندھ کے لیے 162 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا مگر چند ٹکوں کے علاوہ کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

پی پی پی کی سرزنش کرتے ہوئے شہباز نے کہا کہ کراچی کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو 10 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مگر شہر کراچی کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔

نواز دور کی بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنایا تھا۔

انہوں نے مزید کہا ہے اب یہ حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے ، اب مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پی ڈی ایم کا اتحاد اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے جلسہ کا مقابلہ کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسی روز کراچی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جو کہ کراچی شہریوں کے لیے گزشتہ ایک دہائی سے منظر سے غائب تھے۔

دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے اندرون کے طوفانی دورے جاری ہیں۔ گزشتہ روز ٹنڈوالہٰ یار میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے کی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا، عمران خان کے رویوں نے عوام میں مایوسی کو جنم دے دیا ہے، تاہم ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

Facebook Comments Box